The news is by your side.

Advertisement

دبئی: شہریوں سے دھوکا دہی کے ذریعے رقم بٹورنے والا افریقی شخص‌گرفتار

دبئی : متحدہ عرب امارت کے شہر دبئی میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے شہریوں کو پیسے ڈبل کرنے کا لالچ دے کر رقم بٹورنے والے افریقی شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دھوکا دہی میں ملوث افریقی شخص کو گرفتار کیا ہے جو لوگوں کو پیسے ڈبل کرنے کا لالچ دے کر رقم بٹورتا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ مذکورہ ملزم لوگوں سے دھوکا دہی کے ذریعے پیسے لیتا تھا، افریقی شخص نے غیر قانونی طور پر دو شہریوں سے 10 ہزار ڈالر لیے تھے۔

دبئی پولیس کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر سلیم الرومیتی کا کہنا تھا کہ مبینہ افریقی شخص نے دو متاثرہ افراد سے 10 ہزار ڈالر کی خطیر رقم یہ کہہ کر بٹوری تھی کہ خاص پرنٹر کے ذرئعے رقم 5 لاکھ یوروں میں تبدیل کردے گا۔

بریگیڈیئر سلیم الرومیتی کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد میں ایک یورپی اور ایک ایشیائی شخص شامل ہے، جن کا ملزم سے ای میل کے ذریعے رابطہ ہوا تھا پھر بعد میں ہوٹل میں ملاقات طے ہوئی تھی۔

پولیس ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ افریقی ملزم نے 1 ہزار ڈالر ایک پرینٹر میں ڈالے جو ڈبل ہوگئے اور پھر متاثرہ شہریوں کو دیئے تاکہ وہ ڈالر کو درہم میں تبدیل کروالیں۔

پولیس ترجمان نے بتایا کہ مبینہ افریقی شخص کا مقصد اس طرح دونوں افراد کا بھروسہ حاصل کرنا تھا تاکہ بڑی کارروائی کرسکے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد نے ملزم کو 10 ہزار ڈالر دیئے تاکہ خاص پرینٹر کے ذریعے اس رقم کو 5 لاکھ یورو میں تبدیل کیا جاسکے۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم رقم ملنے کے بعد غائب ہوگیا اور اپنا موبائل فون بھی بند کردیا۔


دبئی پولیس نے جعل سازی کرنے والے ایشیائی گروہ کو گرفتار کرلیا

دبئی پولیس کے ڈپٹی ڈائریکٹر لیفٹینیٹ کرنل عمر محمد بن حماد کا کہنا تھا کہ دبئی کے انسداد اقتصادی جرائم کے اہلکاروں نے افریقی شخص کو پہلی کارروائی کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے تاکہ مزید شہریوں کو نہ لوٹ سکے۔


دبئی‘بٹ کوائن کا لالچ دے کر 70 لاکھ درہم لوٹنے والا گروہ گرفتار


دبئ پولیس کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے شکایت درج ہونے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر ملزم کو گرفتار کرکے اس کے اپارٹمنٹ سے برآمد ہونے والے 1 کروڑ جعلی ڈالر اور 5 لاکھ جعلی یورو ضبط کرلیے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں