site
stats
عالمی خبریں

یو اے ای میں پلاسٹک کے چاول کی فروخت، حکام کی وضاحت

دبئی: حکام نے دبئی کے بازاروں میں پلاسٹک کے چاول کی فروخت کو مسترد کرتے ہوئے ایسی اطلاعات کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیا  فوڈ ڈپارٹمنٹ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی باتوں پر کان نہ دھریں۔

خلیج ٹائمز کے مطابق دبئی میونسپلٹی کی خاتون ڈائریکٹر فوڈ سیفٹی ڈپارٹمنٹ ایمن البستکی نے قرار دیا ہے کہ ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں اور کہا ہے کہ وقت بے وقت ایسی خبروں کے آنے کا مقصد یو اے ای کی منڈیوں میں موجود خوراک کے حفاظتی اقدامات پر سوال اٹھانا ہے ۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ دنوں سے افواہیں گردش کررہی ہیں کہ دبئی کے بازاروں میں اصل چاول کی مانند پلاسٹک کے چاول فروخت کیے جارہے ہیں۔

جواب میں دبئی میونسپلٹی نے واضح کیا ہے کہ بازاروں میں ایسا نہیں ہورہا اور نہ پلاسٹک کے چاول کہیں نظرآئے ہیں یہ صرف من گھڑت باتیں ہیں۔

خاتون ڈائریکٹر نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں فروخت ہونے والے تمام چاول قدرتی ہیں جن میں اعلیٰ اور کم معیار کے چاول دونوں شامل ہیں جو خاص طور پر منظوری کے بعد مارکیٹ میں لائے جاتے ہیں ۔


یہ پڑھیں: دبئی میں‌ توپ چلا کر افطار کا اعلان، سیاح‌ حیران


 ان کا کہنا تھا کہ یو اے ای کے بازاروں میں پلاسٹک کے بنے ہوئے چاول نہیں ہیں، اگر ہیں بھی تو انہیں پکانے اورکی دیگر اشیا میں شامل کرتے ہوئے سینسر کے ذریعے شناخت کرنا بہت آسان ہے جیسا کہ مکھن یا آئل میں ملاکر انہیں پکایا جاتا ہے تو اگر وہ پلاسٹک کے ہوں گے اسی وقت گرمی سے چرمرا جائیں گے۔

ڈائریکٹر فوڈ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی گمراہ کن اور غیر حقیقی اطلاعات پھیلانے سے گریز کریں۔

. رداً على إشاعة الأرز البلاستيكي، تؤكد بلدية دبي على عدم مصداقية الشائعة وكونها لا ترقى لكونها شائعات بل هي استخفاف بعقول المستهلك والتي تصدر من وقت لآخر بغرض التشكيك في سلامة الأغذية حيث جميع أنواع الأرز الموجود بالأسواق طبيعي فضلاً عن وجود أنواع ذات جودة عالية أو منخفضة وضمن المواصفات المعتمدة ولا يوجد بالأسواق ما يعرف بالأرز البلاستيكي لأنه أشبه بالخيال ومن السهل كشفه من خلال الخواص الحسية وأثناء الطهي أو إضافة أي مواد كالدهن أو الزيت والذي ببساطة سيتحول إلى كتلة بلاستيكية بفعل الحرارة. وعليه تهيب البلدية المستهلكين بعدم نقل تلك الشائعات المضللة وغير واقعية. In response to the Plastic Rice Rumor, Dubai Municipality affirms the lack of credibility of the rumor and the fact that it is not a rumor, but it is a manipulation of the consumer, which is issued from time to time for the purpose of questioning the safety of food where all types of rice in the market are normal as well as the existence of different types of high quality or low are within the approved standards. There is no such thing in the market known as the plastic rice because it is like a fantasy and easy to detect through sensing it or cooking it or by adding any substances, such as fat or oil that will simply turn into a plastic mass by heat. Therefore, the Municipality urges consumers not to publish misleading and unrealistic rumors. #دبي #بلدية_دبي #الخبر_اليقين #مبادرة_الخبر_اليقين #Dubaimunicipality #Dubai #mydubai #No_More_Rumors

A post shared by Dubai Municipality (@dubaimunicipality) on


یہ بھی پڑھیں: غیر ملکی ملازمین کا والدین کو دبئی بلانا ممکن


Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top