The news is by your side.

Advertisement

دبئی، اگر کسی طالب علم کو کرونا کی تشخیص‌ ہو تو کیا کرنا ہوگا؟

دبئی کی حکومت نے کرونا لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد اسکول کھولنے کی اجازت دے دی ہے او رتمام اسکولز کو ہدایت کی ہے کہ وہ محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ گائیڈ لائن پر عمل کریں۔

محکمہ صحت کی جانب سے جاری گائیڈ لائن میں اسکولز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ طالب علموں کو جسم کا درجہ حرارت چیک کیے بغیر اسکول میں داخل نہ ہونے دیں۔

علاوہ ازیں طالب علموں کو فیس ماسک کے بغیر اسکول میں داخل نہ ہونے دیا جائے،  سماجی فاصلے کو یقینی بنایا جائے اور سینیٹائزر کا استعمال ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

اگر کسی طالب علم کو اسکول میں کرونا کی علامت ظاہر ہوں یا اُس کو وائرس کی تشخیص ہو تو تعلیمی ادارے کو کیا کرنا ہوگا۔؟

حکومتی گائیڈ لائن کے مطابق سب سے پہلے تو اسکول انتظامیہ افراتفری پھیلانے سے گریز کرے اور موجودہ حفاظتی اقدامات سے صورت حال کو قابو کرے، ساتھ ہی دبئی ہیلتھ اتھارٹی اور کے ایچ ڈی اے کو فوری طور پر مطلع کریں۔

اگر کسی طالب علم کو علامت ظاہر ہو تو اُس سے ملاقات کرنے والوں کو تلاش کریں اور بچے سمیت سب کا ٹیسٹ کروائیں، والدین کو آگاہ کریں اور انہیں بھی ٹیسٹ کروانے کے لیے قائل کریں۔

بچے سے رابطے میں رہنے والوں کو 14 روز کے لیے قرنطینہ میں ڈال دیں اور انہیں سماجی فاصلے اور اس کی اہمیت کے حوالے سے بتائیں، حکومت کی منظور شدہ کمپنی سے اسکول کو جراثیم کش ادویات سے اسپرے (سینیٹائز) کروائیں۔

شکایت موصول ہونے کے بعد دبئی حکومت کے متعلقہ محکمے معاملے کی تحقیق کریں گے، تب تک اسکول انتظامیہ آن لائن کلاسز کا انعقاد کرے، اول تو کرونا کی علامت ظاہر ہونے والے بچوں، اساتذہ اور عملے کواسکول میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیں اور اگر کسی کو بالخصوص طالب علم کو علامت ظاہر ہوجائے تو اُسے فوری طور پر سب سے علیحدہ کر کے آئسولیشن میں ڈال کر والدین کو مطلع کردیں۔

متاثرہ بچے کو اسپتال منتقل کریں اور کرونا تشخیص کا ٹیسٹ کروائیں، اگر اُسے کا رزلٹ نیگٹیو آئے تب اُسے پی سی آر (ڈاکٹرز کا سرٹیفیکٹ / ٹیسٹ رپورٹ) موصول ہونے کے بعد اسکول آنے کی اجازت دیں، رپورٹ منفی آنے کے بعد بھی اُسے ڈاکٹرز کی نگرانی میں چودہ روز قرنطینہ میں رکھیں۔

اگر ڈاکٹرز  بچے کی طبیعت کو تسلی بخش قرار دیں تو اُسے علامات ختم ہونے کے بعد اسکول آنے کی اجازت دی جائے۔

رپورٹ مثبت آنے کی صورت میں

اگر کسی بچے، ملازم، استاد کے کرونا ٹیسٹ کی رپورٹ پازیٹیو آئے تو انتظامیہ تمام لوگوں کے ٹیسٹ کا بندوبست کرے اور سب کو ڈاکٹرز کی نگرانی میں چودہ روز تک قرنطینہ میں رکھیں، بالخصوص اُن لوگوں کو علیحدہ کریں جو پندرہ منٹ پہلے یا دو میٹر کے فاصلے سے متاثرہ شخص یا بچے سے ملاقات کرچکا ہو۔

حکومتی گائیڈ لائن میں بتایا گیا ہے کہ اسکول انتظامیہ کرونا ایمرجنسی کی صورت حال میں کسی نرس ، ڈاکٹر کو طلب کرسکتی ہے، جو مکمل احتیاطی تدابیر کے ساتھ تشریف لائے۔ نرس یا ڈاکٹرز  اسکول انتظامیہ سے فیس لینے کا اختیار بھی ہوگا۔

حکومتی گائیڈ لائن میں خاص طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ اسکول انتظامیہ تمام آنے والوں ریکارڈ مرتب کرے، مہمان، اسٹاف، طالب علموں، کے نام اور رابطہ نمبر لکھے جائیں تاکہ کسی بھی صورت میں اُن سے رابطہ کیا جاسکے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں