The news is by your side.

Advertisement

دیارِ غیرمیں محنت مزدوری کرنے والے پاکستانی کے چرچے


لاہور:  دیہی علاقوں میں سود خوروں کے معاشی جال سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے بیرون ملک جانے والے پاکستانی نوجوان پر بننے والی خصوصی دستاویزی فلم سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر مقبول ہوگئی۔

 عرب نشریاتی ادارے(الجزیرہ) کی جانب سے باہر ممالک مزدوری کے لئے جانے والے ایک عام پاکستانی کی زندگی پر بننے والی خصوصی دستاویزی فلم عوام میں مقبول ہوگئی۔

pak-1

اس فلم میں پنجاب کے ایک گاؤں ’حکیم والا‘ میں رہائش  پذیر 29 سالہ محمد شریف کے حالات کو تفصیلی بیان کیا گیا ہے، دیہاتی شخص نے  محنت کر کے  کپاس  کاشت کی۔ فصل تیار ہونے سے قبل پورے گاؤں کے کھیتوں میں مہلک بیماری پھیل گئی اور فصل کو شدید نقصان پہنچا۔

pak-3

فصل کی بیماری دور کرنے کے لئے گاؤں کے لوگوں نے سود خوروں سے قرضہ لیا  مگر مکمل تباہی اور نقصان کے باعث کوئی بھی قرضے کی ادائیگی نہ کرسکا ۔

شریف اپنے گھر کا اکلوتا جوان ہے اور ساتھ ہی ساتھ گاوٗں کا واحد ڈرائیور بھی اور اسی فن کے سبب گاؤں کی پنچایت، بزرگوں اوردوستوں  کےمشورے پرعمل کرتے ہوئے اس نےدبئی جانے کا فیصلہ کیا۔

pak-2

فلم میں مزید بتا یا گیا ہے کہ گاؤں کے لوگوں نے اپنی تمام تر قیمتی اشیا ء اور زمینیں فروخت کر کے شریف کودبئی  بھیجنے کے انتظامات کئے ہیں تاکہ قرضے سے نجات حاصل ہوسکے۔

دبئی پہنچنے پرپہلے سے مقیم  دوستوں اور رشتے اداروں نے شریف کے اس اقدام کو غلط قرار دیا اور وہاں کے  حالا ت سختیوں کے حوالے سے آگاہی دی ۔ گاؤں کے حالات بدلنے کی سوچ لئے جانے والے اس جواں نے تمام تر مصائب اورسختیوں سے لڑنے ہوئے دبئی میں قیام کا فیصلہ کیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ شریف اپنے اور گاؤں والوں کے خوابوں کو تعبیر دینے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔

 واضح رہے کہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی پیسے کمانے کی غرض سے مزدور ویزوں پر خلیجی ممالک کا سفر کرتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں