کراچی میں رواں سال ڈمپرز، واٹر ٹینکرز اور ٹرالرز کی ٹکر سے 75 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ایک سروے میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ہیوی گاڑیوں کے حادثات کی سب سے بڑی وجہ ان گاڑیوں میں غیر معیاری بریک شوز کا استعمال ہے۔
سروے کے مطابق مارکیٹ میں اچھی کوالٹی کا بریک شوز کا سیٹ 35 سے 50 ہزار روپے تک کا ہوتا ہے، جب کہ تقریباً تمام بھاری گاڑیاں 4 سے 6 ہزار روپے والا بریک شو استعمال کرتی ہیں۔
کراچی کی سڑکوں پر روزانہ ایسے ہی بے قابو، دیو ہیکل ڈمپر اور لانگ وھیکلز دوڑ رہے ہوتے ہیں جو کمزور بریک اور لاپرواہ ڈرائیور کے ساتھ قانون کی گرفت سے آزاد ہوتے ہیں۔ یہ بے لگام لوہے کے دیو کسی بھی لمحے گاڑیوں اور انسانوں کو کچل دیتے ہیں۔
1965 کا موٹر وھیکل ایکٹ کہتا ہے جب تک کوئی گاڑی ایکسائز میں رجسٹرڈ نہ ہو، اسے نہ روٹ پرمٹ دیا جا سکتا ہے، نہ فٹنس سرٹیفیکیٹ جاری کر سکتے ہیں۔ مگر شہر میں ہزاروں ڈمپرز بغیر نمبر پلیٹس کے چلتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ان ڈمپرز کی ایک بڑی تعداد مبینہ طور پر نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ہیں مگر سوال تو یہ ہے کہ کون انھیں سڑکوں پر چلنے دیتا ہے؟
عام شہری کے لیے ایک بائیک کی رجسٹریشن بھی آزمائش ہے مگر ڈمپر مالکان کے لیے فٹنس سرٹیفیکیٹ کیا معنی رکھتا ہے! کراچی ٹریفک پولیس کہتی ہے کہ ہم نے قوانین کی خلاف ورزیوں پر موٹر سائیکلوں اور کاروں پر اربوں روپے جرمانہ کیا ہے، مگر کتنے ڈمپرز اور ٹرالرز پر جرمانہ کیا اس پر خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں نان کسٹم، غیر رجسٹرڈ اور نان فٹ گاڑیوں کا بے لگام دوڑنا کسی ٹائم بم سے کم نہیں۔ قوانین تو ہیں، مگر عمل درآمد صفر!
ٹریفک پولیس چیف کا کہنا ہے کہ شہر میں موٹر سائیکل والے احتیاط سے بائیک نہیں چلاتے، سوال یہ بنتا ہے کہ کراچی کے علاوہ دوسرے بڑے شہروں میں کتنے افراد ڈمپرز اور دیگر بھاری گاڑیوں کے نیچے آ کر جاں بحق ہوتے ہیں؟ شہر میں آئل فراہم کرنے والی گاڑیاں بھی چلتی ہیں، مگر ان سے تو حادثات نہیں ہوتیں۔ کیوں کہ ان میں اچھے بریک شوز کا استعمال کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ وہ بڑی کمپنیاں قوانین پر عمل درآمد بھی کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں گاڑیوں اور ڈرائیوروں کی فٹنس کا کوئی مؤثر نظام نہیں ہے، جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی خرابی ہو یا ڈرائیور کی غفلت دونوں ہی بڑے حادثات کو جنم دیتی ہیں، اور اب یہ کراچی میں لگ بھگ روز کا معمول بن چکا ہے۔
سوال یہ ہےکہ یہ سب چل کیسے رہا ہے؟ اور کب تک چلتا رہے گا؟ اگر حکومت واقعی حادثات روکنا چاہتی ہے تو بیانات سے آگے بڑھ کر سخت کارروائی کرے۔
آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا حکومت یہ معاملہ سامنے آنے پر ایکشن لے گی یا پھر؟؟؟
ندیم جعفر اے آر وائی نیوز سے وابستہ ایک ممتاز صحافی ہیں جو کہ مختلف سماجی اور سیاسی موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ندیم کراچی یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر کی ڈگری اور آسٹریلیا کے ایک باوقار ادارے سے ایڈوانس سرٹیفیکیشن کے حامل
ہیں۔


