The news is by your side.

Advertisement

سحر وافطار میں ان اشیا سے پرہیز کریں

رمضان المبارک میں صحت مند رہنے کیلیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ لوگوں کو سحر وافطار میں ان اشیا کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔

رمضان المبارک کی پربہار ساعتوں کا آغاز ہوگیا ہے گھر گھر سحری وافطار کے موقع پر قسم قسم کے پکوانوں سے دسترخوان سجانے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک میں کھانے پینے میں احتیاط کریں اور صحت مند رہنے کیلیے صرف غذائیت سے بھرپور خوراک ہی استعمال کی جائے۔

رواں ماہ رمضان بھی حسب معمول موسم گرما میں آرہا ہے تو کوشش کی جائے کہ سحری کے اوقات میں ایسی غذا کا استعمال کیا جائے جو کہ وٹامنز، معدنیات سے بھرپور ہوں اور اس کمی کو پورا کریں جو دن کے وقت روزے کے دوران جسم سے ضائع ہوتے ہیں۔ دوسری طرف ایسی غذاؤں سے پرہیز کیا جائے جس سے صحت پر منفی اثرات ہوں۔

تلی ہوئی اور چکنائی سے بھرپور غذائیں استعمال کرنے سے گریز کریں کیونکہ اس کا استعمال آپ میں تھکاوٹ کے احساس کو بڑھا سکتا ہے اور یہ کھانا آپ کے معدے میں صحت مند کھانے کی جگہ لے کر صحت کیلیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

نمک سے بھرپور غذائیں جسم میں پانی کی کمی کا باعث بنتی ہیں اور اس کا زیادہ استعمال اس موسم میں آپ کو دوران روزہ نڈھال کرسکتا ہے اس لیے ایسی غذاؤں سے بھی پرہیز ہی بہتر ہوگا۔

شکر کا زیادہ استعمال تو عام دنوں میں ہی صحت کیلیے کافی نقصان دہ ہوتا ہے لیکن یہاں شکر سے مراد صرف مٹھائیاں ہی نہیں بلکہ مٹھاس سے بھرپور دیگر غذائیں بھی ہیں جن میں عام طور پر کیلوریز بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن صحت بخش ہرگز نہیں یہ غذائیں جسم کو جلد اور مختصر مدت کیلیے توانائی ضرور فراہم کرتی ہیں لیکن انہیں کھانے کے بعد جلد ہی تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے۔

کیفین کا زیادہ استعمال جسم میں مائعات کو کم کرتا ہے اور اس کے استعمال کے بعد پیاس کا احساس تیز ہوجاتا ہے کیونکہ کیفین ایک ڈائیوریٹک ہے اس لیے سحروافطار بالخصوص سحری کے دوران کیفین والے کھانے اور مشروبات جن میں سب سے اہم کافی، چائے اور چاکلیٹ شامل ہیں کھانے پینے سے گریز کریں یا کم سے کم استعمال کریں۔

سادہ یا ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذائیں جن میں سفید روٹی اور پیسٹری وغیرہ شامل ہے یہ غذائیں جلد ہضم ہوجاتی ہیں اور اسی وجہ سے جلد بھوک کا احساس ہونے لگتا ہے اس لیے ایسی غذاؤں کا استعمال بھی کم سے کم کیا جائے تو بہتر ہے۔

سافٹ ڈرنکس معدے میں جلن کا باعث بنتے ہیں خاص طور پر اگر وہ ٹھنڈے ہوں۔ یہ مشروبات بدہضمی کا باعث بھی بن سکتے ہیں اس لیے ان کی جگہ اگر ایک گلاس سادہ پانی پی لیا جائے تو وہ زیادہ بہتر ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں