site
stats
پاکستان

آسٹریلیا نے قریب المرگ جواں سال پاکستانی شہری کی آخری خواہش پوری کردی

سڈنی: آسٹریلیا کی وزارت برائے امیگریشن نے کینسر کا شکارجاں بہ لب پاکستانی شہری کی زندگی کی آخری خواہش پوری کردی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق 25 سالہ پاکستانی نوجوان حسن آصف تعلیمی ویزے پرآسٹریلیا گیا تھا جہاں دوران علاج اس میں کینسر کی تشخیص ہوئی جب کہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حسن آصف مزید چند ہفتے سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا اورجب حسن کے والدین کواس کی بیماری کاعلم ہوا تو انہوں نے آسٹریلین ویزے کے لئے درخواست دی لیکن انہیں ویزہ دینے سے انکار کردیا گیا۔

حسن نے اپنی آخری خواہش کا اظہار کیا کہ وہ آخری مرتبہ اپنی والدہ اور بھائی سے ملنا چاہتا ہے لیکن امیگریشن حکام نے اس کی والدہ اور بھائی کی ویزہ کی درخواست مسترد کردی۔

دریں اثںاء حسن آصف کی والدہ کو ویزہ جاری نہ کرنے پر پناہ گزینوں کی تنظیم میلبرن سٹی مشن نے امیگریشن وزیرپیٹرڈٹن سے اپیل کی کہ وہ اس غیرمعمولی حالات میں حسن آصف کو رعایت دیں جب کہ اس حوالے سے تنظیم نے اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کیا کہ پیٹر ڈٹن حسن آصف سے اہلخانہ کی آخری ملاقات کرانے کے لئے خود مداخلت کریں اور غیرمعمولی حالات کو مدنظررکھتے ہوئے حسن کی والدہ اور بھائی کا ویزہ جاری کریں۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعت لیبرپارٹی نے بھی امیگریشن وزیرسے درخواست کی کہ وہ بیوروکریٹک مسئلے کو جلد حل کریں۔

امیگریشن وزیر نے اس حوالے سے آج پریس کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں کہا گیا کہ اسلام آباد سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں حسن آصف کی والدہ اوربھائی کو ویزہ جاری نہیں کیا جاسکتا تھا تاہم اس میں براہ راست مداخلت کرتے ہوئے اسلام آباد حکام کو کیس کی نوعیت کے بارے میں آگاہ کیا اورمتاثرہ نوجوان کے اہلخانہ کے حوالے سے مزیدمعلومات اکٹھی کرنے کی ہدایت کی گئی اور اب حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں حسن آصف کی والدہ اور بھائی کو ویزہ جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

آسٹریلوی امیگریشن حکام کے فیصلے کے بعد امید ہے کہ حسن آصف کے اہل خانہ جلد آسٹریلیا آئیں گے اور اپنے بیٹے سے ملاقات کریں گے۔

آسٹریلوی اسپتال میں زیرعلاج حسن آصف کو جب خبردی گئی کہ ان کی والدہ کو آسٹریلیا آنے کی اجازت مل گئی توان کے ساتھ اسپتال کے عملے کی آنکھیں بھی شرربار ہوگئیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top