کراچی (25 نومبر 2025): ای چالان کے تحت بھاری جرمانوں سے پریشان کراچی کے شہریوں کیلیے اہم خبر آگئی۔
سندھ ہائیکورٹ میں ای چالان کے بھاری جرمانوں کے خلاف جماعت اسلامی، مرکزی مسلم لیگ، بس اونرز ایسوسی ایشن اور شہریوں کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ لاہور میں الگ جرمانے اور کراچی میں الگ جرمانے ہیں، شہر قائد کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گھر بیٹھے ای چالان کینسل کروانے کا طریقہ
عدالت نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کراچی کا موازنہ کسی اور شہر سے نہ کریں۔ سندھ ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ ہر جگہ کے اپنے ڈائنامکس ہیں، کیا کراچی کا کسی سے موازنہ بنتا ہے؟
اس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہم بس والوں کو مسافر اٹھانے تک نہیں دیا جاتا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ آپ لوگ بس اسٹینڈ پر بسیں روکیں۔ وکیل بس اونرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ کراچی میں بس اسٹینڈتک نہیں ہیں۔
جسٹس عدنان اقبال چوہدری نے کہا کہ ہم بھی اسی شہر میں رہتے ہیں سب پتا ہے، سب کے جواب آنے کے بعد کیس ایک ساتھ سنا جائے گا۔
درخواست گزار نے کہا کہ کراچی کا پورا انفراسٹرکچر تباہ اور شہر بھر کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، شہر میں سہولت کوئی نہیں مگر شہریوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں، ای چالان کی آڑ میں شناختی کارڈ بلاک کی دھمکیاں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک ملک میں دو قانون کیسے قابل قبول ہو سکتے ہیں؟ لاہور میں ای چالان 200 روپے اور کراچی والوں کیلیے 5 ہزار روپے کیوں ہے؟ شہر کی سڑکیں، ٹریفک انتظامات اور شہری سہولتوں کی حالت ناقابل بیان ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے ای چالان کے خلاف فوری حکم امتناع دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کر لیا اور درخواست پر مزید سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کر دی۔


