بدھ, اگست 19, 2026
اشتہار

ای چالان: جاری نوٹیفکیشن کیلیے قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کا انکشاف

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (28 نومبر 2025): شہر قائد میں ای چالان کے اجرا کیلیے جاری نوٹیفکیشن کیلیے قانونی تقاضے پورے نہ کیے جانے کا انکشاف سامنے آگیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان کے اجرا اور موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

عدالت نے درخواست کو اسی نوعیت کی دیگر درخواستوں کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کیا اور ان سے جواب طلب کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: گھر بیٹھے ای چالان کینسل کروانے کا طریقہ

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے انکشاف کیا کہ ای چالان کے اجرا کیلیے جاری نوٹیفکیشن کیلیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، ابھی تک 2023 کا نوٹیفکیشن ہی قابل عمل ہے۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ شہر میں سڑکوں کا انفرااسٹرکچر تباہ حال اور ٹریفک سگنلز بھی مکمل فعال نہیں ہیں، اب تک 93 ہزار سے زائد ای چالان جاری کیے جا چکے ہیں، سندھ پرنٹنگ پریس کے مطابق جرمانے کا نوٹیفکیشن ابھی تک گزٹ میں شائع نہیں ہوا۔

وکیل کے مطابق نوٹیفکیشن گزٹ میں شائع نہ ہونے سے 2023 کے منظور شدہ جرمانے ہی نافذ ہوں گے، ای چالان کے ذریعے کیے جانے والے بھاری جرمانے غیر قانونی ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

حکم امتناع کی استدعا مسترد

25 نومبر 2025 کو سندھ ہائیکورٹ میں ای چالان کے بھاری جرمانوں کے خلاف جماعت اسلامی، مرکزی مسلم لیگ، بس اونرز ایسوسی ایشن اور شہریوں کی درخواستوں پر سماعت ہوئی تھی۔

وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ لاہور میں الگ جرمانے اور کراچی میں الگ جرمانے ہیں، شہر قائد کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔

عدالت نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کراچی کا موازنہ کسی اور شہر سے نہ کریں۔ سندھ ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ ہر جگہ کے اپنے ڈائنامکس ہیں، کیا کراچی کا کسی سے موازنہ بنتا ہے؟

اس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہم بس والوں کو مسافر اٹھانے تک نہیں دیا جاتا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ آپ لوگ بس اسٹینڈ پر بسیں روکیں۔ وکیل بس اونرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ کراچی میں بس اسٹینڈتک نہیں ہیں۔

جسٹس عدنان اقبال چوہدری نے کہا کہ ہم بھی اسی شہر میں رہتے ہیں سب پتا ہے، سب کے جواب آنے کے بعد کیس ایک ساتھ سنا جائے گا۔

درخواست گزار نے کہا کہ کراچی کا پورا انفراسٹرکچر تباہ اور شہر بھر کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، شہر میں سہولت کوئی نہیں مگر شہریوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں، ای چالان کی آڑ میں شناختی کارڈ بلاک کی دھمکیاں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ملک میں دو قانون کیسے قابل قبول ہو سکتے ہیں؟ لاہور میں ای چالان 200 روپے اور کراچی والوں کیلیے 5 ہزار روپے کیوں ہے؟ شہر کی سڑکیں، ٹریفک انتظامات اور شہری سہولتوں کی حالت ناقابل بیان ہے۔

سندھ ہائیکورٹ نے ای چالان کے خلاف فوری حکم امتناع دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کیا اور درخواست پر مزید سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کی۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں