کراچی: عوام کے ساتھ ساتھ اہم سرکاری اداروں کی گاڑیاں بھی ای چالان کی زد میں آگئیں اور سرکاری گاڑیوں کو3 لاکھ 80 ہزار کے چالان جاری ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق شہرِ قائد میں نہ صرف عام شہری بلکہ سرکاری اداروں کی گاڑیاں بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان کی زد میں آگئیں۔
محکمۂ ٹریفک پولیس نے بتایا کہ مجموعی طور پر 35 سرکاری گاڑیوں کو مختلف خلاف ورزیوں پر 3 لاکھ 80 ہزار روپے کے چالان جاری کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق سیٹ بیلٹ کی خلاف ورزی پر سب سے زیادہ چالان کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 3 لاکھ 10 ہزار روپے ہے۔
کالے شیشے لگانے پر 25 ہزار روپے، سگنل توڑنے پر 35 ہزار روپے اور موبائل فون کے استعمال پر 10 ہزار روپے کے چالان جاری ہوئے۔
ٹریفک قوانین کی یہ خلاف ورزیاں بلوچ کالونی، حسن اسکوائر، پی آئی ڈی سی، میٹروپول، رینجرز ہیڈکوارٹرز اور تین تلوار کے قریب نصب کیمروں سے ریکارڈ ہوئیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ وفاقی محکمہ نارکوٹکس کنٹرول کی گاڑی کو کالے شیشوں پر، نیب، محکمہ صحت اور محکمہ زراعت کی گاڑیوں کو سگنل توڑنے پر، جبکہ رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کی گاڑی کو دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون استعمال کرنے پر چالان کیا گیا۔
اسی طرح محتسبِ اعلیٰ سندھ اور یونیورسٹی اینڈ بورڈ ڈپارٹمنٹ کی گاڑیوں کو سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر جرمانہ کیا گیا۔
مزید برآں، نیوکلیئر ایکوئپمنٹ ورکشاپ، فوڈ ڈپارٹمنٹ، ایس این جی ڈی، لوکل گورنمنٹ، سندھ ہائیکورٹ، محکمہ تعلیم اور دیگر سرکاری محکموں کی گاڑیاں بھی چالان ہونے والوں میں شامل ہیں۔
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ سینئر صحافی اور کرائم رپورٹر ہیں، وہ 14 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔


