The news is by your side.

Advertisement

ارتھ آور، ایک گھنٹے تک غیر ضروری لائٹس بند، پاکستانیوں کا بھی کرہ ارض سے اظہارِ محبت

کراچی / اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا بھر میں زمین سے محبت اور ماحولیاتی اثرات سے کرہ ارض کو محفوظ رکھنے کے لیے ارتھ آور منایا گیا، جس کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں ساڑھے  آٹھ بجتے ہی ایک گھنٹے کے لیے بیشتر روشنیاں گل کر دی گئیں، مرکزی تقریب پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث زمین کو لاحق خطرات سے آگاہی کے لیے شہریوں نے ارتھ آور منایا، جس کے تحت زمین پر بسنے والے لاکھوں افراد نے زمین سے محبت کا اظہار کیا، دنیا بھر کی طرح پاکستان کے بھی تمام چھوٹے بڑے شہروں میں رات ساڑھے آٹھ بجے اضافی لائٹیں ایک گھنٹے کے لیے بند کی گئیں۔

دار الحکومت اسلام آباد میں ارتھ آور کی خصوصی تقریب پارلیمنٹ ہاؤس کے پارکنگ ایریا میں منعقد ہوئی ہوئی، ارتھ آور پر ملک بھر کے سرکاری اور نجی عمارتوں سمیت ایئرپورٹس پر بھی بیشتر بتیاں بجھا ئی گئیں۔

مزید پڑھیں: جرمن سفیر ارتھ آور مناتے ہوئے کس اردو کتاب کا مطالعہ کر رہے ہیں؟

اے آر وائی نیوز کے اسٹوڈیو میں بھی مقررہ وقت شروع ہوتے ہی غیر ضروری بتیاں بند کر کے زمین سے محبت کا ثبوت دیا گیا جبکہ اس دوران ملازمین تن دہی سے اپنی ذمہ داریاں بھی انجام دیتے رہے۔

خیال رہے کہ 61 برس قبل دنیا میں سب سے پہلے ارتھ آور کا آغاز ہانگ کانگ میں ہوا جہاں زمین سے محبت کرنے والوں نے بلند وبالا عمارتوں کی رضا کارانہ طور پر بتیاں بجھا دیں، انٹرنیشنل ارتھ آور منانے کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آج کے دن ایک گھنٹہ زمین کے نام کریں

واضح رہے کہ دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں کرہ ارض کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے جس کے سبب ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، لوگوں کو اس حوالے سے آگاہی فراہم کرنا ارتھ آور کا اہم مقصد ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں