The news is by your side.

Advertisement

زلزلے سے کیسے بچا جائے‘ سیمینار

چترال: چترال میں دوسال قبل آنے والے ہولناک زلزلے کی یاد میں چترال یونی ورسٹی کی جانب سے تقریب منعقد کی گئی ‘ 19 اپریل کو آنے والے زلزلے میں 32 افراد جاں بحق اور ڈیڑھ سو زخمی ہوئے تھے جبکہ متعدد مکانات تباہ ہوئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق زلزلے سے جاں بحق ہونے والوں کی یاد میں منعقدہ تقریب کے مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر چترال ارشاد سودھر تھے جبکہ تقریب کی صدارت چترال یونیورسٹی کے پراجکیٹ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بحاری کر رہے تھے۔

سیمینار میں ماہرین نے قدرتی آفات جیسے زلزلہ، سیلاب وغیرہ سے بچنے اور نقصانات کی شرح کم سے کم کرنے کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔

آگاہی سیمنار میں شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ ہم قدرتی آفات کو روک تو نہیں سکتے البتہ حفاظتی تدابیر اپناتے ہوئے اس کی نقصانات کا شرح کم سے کم کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چترال ایک ریڈ زون ہے جہاں ہر وقت خطرے کی گھنٹی بجتی ہے مگر اس کے باوجود لوگ دھڑا دھڑ جنگلات کی کٹا ئی کررہے ہیں اور مکانات بناتے وقت ماہرین کی رائے نہیں لیتے ۔

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے دیسی طریقوں سے حفاظتی تدابیر اپنانے پر اظہار خیال کیا اور کہا کہ بہت سے قدیم اور روایتی طریقوں کو جدید دور سے ہم آہنگ کرکے قدرتی آفات کی تباہ کاریوں سے بچا جاسکتا ہے۔

اے آروائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ہم ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ یونٹ کو مزید فعال بنائیں گے اور کوشش کریں گے کہ اس کی ٹاسک فورس ہر دم تیار ہو تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نبرد آزما ہونے میں ان کو کوئی دشواری کا سامنا نہ ہو۔

انہوں نے مزیدکہا کہ ضلعی انتظامیہ کی کوشش ہوگی کہ مصیبت کے ہر گھڑی میں عوام کی خدمت کرے اور ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے۔

ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی آف چترال نوجوان نسل کو ان ہنگامی صورت حال اور قدرتی آفات سے روشناس کراکے ان کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرے۔آگاہی سیمنار سے محتلف کالجوں کے پروفیسرز ، غیر سرکاری اداروں اور دیگر ماہرین نے بھی اظہار خیال کیا۔

اس موقع پر یونیورسٹی آف چترال میں ایک نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں ہنگامی صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لیے استعمال میں لانے والی مشینری اور سامان کی نمائش کی گئی اور عوام اور طلباءکو اس کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چترال نے بعض اداروں کی کارکردگی پر مایوسی کا بھی اظہار کیا جو صحیح طور پر عوام کی خدمت نہ کرسکے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں