The news is by your side.

ملک کے مختلف حصوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے

اسلام آباد: صوبہ پنجاب، بلوچستان، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ بلوچستان کے علاقے بیلہ میں زلزلے کے باعث متعدد مکانات کی چھتیں گر گئیں۔

تفصیلات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے سب سے پہلے صبح 10 بجے بلوچستان کے سرحدی ضلعے لسبیلہ کے علاقے بیلہ میں محسوس کیے گئے۔ زلزلے کے باعث متعدد مکانات کی چھتیں گر گئیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ زلزلے کے جھٹکوں کے باعث متعدد مکانات کی چھتیں گر گئی ہیں۔ زلزلے کی شدت 4.7 جبکہ مرکز لسبیلہ کا علاقہ بیلہ بتایا جارہا ہے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق زلزلے کے باعث حادثات میں ڈیڑھ ماہ کی بچی جاں بحق جبکہ 9 افراد زخمی بھی ہوگئے ہیں۔

زلزلے کے بعد سول اسپتال بیلہ میں ایمر جنسی نافذ کردی گئی ہے۔

دوسری جانب تھوڑی ہی دیر بعد ملک کے دیگر شہروں میں بھی زلزلے کے مزید جھٹکے محسوس کیے گئے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پشاور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، گلگت، سوات، لوئر اور اپر دیر، چترال، ہنزہ، اسکردو، لاہور، چلاس، بھلوال، پنڈ دادن خان میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں مری، پسرور، کالا باغ، چنیوٹ، میانوالی، جھنگ، بٹگرام، بنوں، شانگلہ، تاندلیا نوالہ، قائد آباد، ڈیرہ اسمٰعیل خان، چارسدہ اور اوکاڑہ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

زلزلے کے بعد لوگ اپنے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی جبکہ زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش اور گہرائی 169 کلو میٹر تھی۔ زلزلے کے بعد ملک بھر کے متاثرہ علاقوں کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔


افغانستان میں تباہی

پاکستان کے علاوہ بھارت کے شہر نئی دہلی، مقبوضہ کشمیر کے علاقے سرینگر اور افغان دارالحکومت کابل اور افغانستان کے دیگر شہروں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

افغان میڈیا کے مطابق زلزلے کے باعث افغان علاقے بدخشاں کے کچھ علاقوں میں شدید تباہی پیش آئی ہے۔ زلزلے کے بعد امدادی کارکنان اور ریسکیو ٹیمیں پہنچنا شروع ہوگئی ہیں۔

یاد رہے کہ ماہرین کے مطابق جب بھی سپر مون ہوتا ہے تو زمین پر چاند کی کشش بے پناہ بڑھ جاتی ہے جس کے سبب اس قسم کے واقعات پیش آنے کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

ماضی میں بھی سپر مون کے موقع پر ایسے کئی واقعات پیش آچکے ہیں اور آج رات سپر بلیو بلڈ مون ہے جس کے سبب ماہرین نے اس قسم کے حادثات کی پیشن گوئی کر رکھی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں