بدھ, فروری 11, 2026
اشتہار

اسرائیل کے خفیہ جوہری مرکز کے قریب زلزلہ, کیا اسرائیل نے ’’زیر زمین ایٹمی تجربہ‘‘ کیا؟

اشتہار

حیرت انگیز

(16 جنوری 2026): اسرائیل کے خفیہ جوہری مرکز کے قریب 4.2 شدت کا زلزلہ آنے کے بعد اسرائیل کے زیر زمین ایٹمی تجربہ کرنے کی افواہیں پھیل رہی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمعرات کی صبح آنے والے اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.2 اور مرکز ڈیمونا شہر کا قریب بتایا گیا ہے۔ یہ علاقہ اسرائیل کا سب سے خفیہ جوہری تحقیقی مرکز (شیمون پیریز نیگیو نیوکلیئر ریسرچ سینٹر) ہے۔

زلزلے کی گہرائی اور دورانیہ (چند سیکنڈ) ہے، جو ایٹمی ٹیسٹ سے مشابہت رکھتا ہے۔ جب کہ زلزلے کے وقت ملک بھر کے اسکولوں میں قومی ہنگامی مشقیں جاری تھیں۔

زلزلے کے بعد وہاں سائرن بج اٹھے اور لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا جب کہ زلزلے کے جھٹکوں کی خبر پھیلنے کے بعد سوشل میڈیا پر اسرائیل کے زیر زمین ایٹمی تجربہ کرنے کی افواہیں بھی پھیلنے لگیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی ڈیڈ سی رفٹ ویلی میں زلزلے عام ہیں، جو ٹیکٹونک پلیٹوں کا ایک علاقہ ہے۔ لیکن اس بار زلزلے کی ٹائمنگ اور لوکیشن نے سب کو حیران کر دیا۔

ڈیمونا میں اسرائیل کا نیوکلیئر ری ایکٹر ہے جہاں ماہرین کا خیال ہے کہ اسرائیل 1960 کی دہائی سے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے پلاٹینیم تیار کر رہا ہے۔ اسرائیل کبھی بھی این پی ٹی میں شامل نہیں ہوا اور وہ اسٹریٹجک ابہام کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

اس زلزلے کے بعد سوشل میڈیا پر لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا اسرائیل نے ایٹمی تجربہ کیا؟کیا یہ ایران کو وارننگ ہے؟ جب کہ گزشتہ سال جون 2025 میں اسرائیل اور امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے۔

واضح رہے کہ ایران میں خامنہ ای کی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل ایران پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو روکے۔ جب کہ ٹرمپ نے ایران پر حملے کی دھمکی بھی دی ہوئی ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں