The news is by your side.

مشرقی پاکستان فوجی نہیں سیاسی ناکامی تھی، آرمی چیف

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سابق مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو سیاسی ناکامی قرار دے دیا۔

جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم شہدا کی تقریب سے الوادعی خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ سابق مشرقی پاکستان کی علیحدگی کےحوالےسے کبھی کھل کر بات نہیں کی جاتی آج میں واضح کرنا چاہتا ہوں سابق مشرقی پاکستان کی علیحدگی فوجی نہیں بلکہ سیاسی ناکامی تھی۔

آرمی چیف نے کہا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے وقت وہاں 92 ہزار نہیں صرف 34 ہزار جوان دفاع وطن کر رہے تھے ہمارے 34ہزار جوانوں نے دشمن کی تقریباً ساڑھے 4لاکھ فوج کا بہادری سے مقابلہ کیا قوم کو اپنے شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کو تسلیم کرنا ہو گا۔

آرمی چیف نے کہا: ’پچھلے سال فروری میں فوج نے سوچ و بچار سے فیصلہ کیا کہ آئندہ کسی معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی۔ کئی حلقوں نے فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ فروری میں یہ فیصلہ کیا کہ فوج اب سیاسی عمل میں کبھی حصہ نہیں لے گی۔ فوج پر تنقید سیاسی جماعتوں کا حق ہے لیکن الفاظ کا غیر مناسب استعمال درست نہیں۔‘

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ایک جھوٹا سیاسی بیانیہ بنا کر فوج کی قیادت پر الزام تراشی کی گئی، فوج کی قیادت کے خلاف غیر مناسب الفاظ میں مہم چلائی گئی، فوج کی قیادت کے پاس جھوٹے بیانیے کا جواب دینے کے لیے کافی مواقع تھے تاہم صبر سے کام لیا۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں بھی اپنے ماضی کے طرزِ عمل پر نظر ثانی کریں گی، وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ اس وقت پاکستان سنگین معاشی مسائل کا شکار ہے، کوئی ایک سیاسی جماعت تنہا پاکستان کو اس معاشی بحران سے نہیں نکال سکتی، تمام سیاسی جماعتیں اس صورتِ حال کا درست ادارک کر کے آگے بڑھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں، ہمیں یہ سوچ اور طرز عمل ختم کرنا ہوگا تاکہ جو بھی نئی حکومت آئے وہ الیکٹڈ ہو، ہم سب نے متحد ہو کر پاکستان کی ترقی کے لیے کام کرنا ہے، شخصیات کوئی بھی ہوں پاکستان نے آگے بڑھنا ہے، ہار جیت سیاست کا حصہ ہوتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں