The news is by your side.

Advertisement

آج مسیحی برادری ایسٹر کا تہوار منارہی ہے

کراچی: پاکستان سمیت دنیا بھرمیں مسیحی برادری آج ایسٹر(جی اٹھنے) کا تہوار مذہبی جو ش و خروش اور عقیدت سے منارہی ہے، اس مناسبت سے ملک بھر کے گرجا گھروں میں دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق مسیحی تہوار وں میں مرکزی اہمیت رکھنے والا تہوار ایسٹر آج دنیا بھر میں منایا جارہا ہے‘ یہ تہوار 22 مارچ سے 25 اپریل کے درمیان ہر سال الگ الگ تاریخوں پر منایا جا تا ہے‘ 21 مارچ کے بعد آنے والے پہلے اتوار کے بعد آنے والے اتوار کو ایسٹر منایا جاتا ہے۔

اس موقع پر عالمِ عیسائیت کی اہم ترین مذہبی تقریبات مشرق وسطیٰ میں یروشلم اورکیتھولک عیسائی عقیدے کے مرکز ویٹی کن میں منعقد ہوں گی‘ کیتھلوک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پاپائے روم خصوصی دعا کر وائیں گے۔پاکستان میں ایسٹر کے تہوار کی مناسبت سے تقریبات کا آغاز رات ہی سے ہوگیا۔

اس موقع پر ملک بھر میں گرجا گھروں میں خصوصی عبادات کا اہتمام کیا گیا ہے ، گرجاگھروں میں شمعیں روشن کی گئیں اور خصوصی گیت بھی گائے گئے ہیں ۔ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔

ایسٹرکی تاریخ


ایسٹر کو عیسائیوں کا دوسرے سب سے بڑے تہوار کی حیثیت حاصل ہے جوکہ ان کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پھر سے جی اٹھنے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ مدتوں‌ اس کی تاریخ میں اختلاف رہا۔

سنہ 325ء میں رومی بادشاہ، قسطنطین اول نے ایشیائے کوچک (ترکی) کے مقام پرازنک میں عیسائی علما کی ایک کونسل بلائی جسے نائسیا کی پہلی کونسل کہتے ہیں۔ لیکن یہ کونسل بھی ، مشرقی اور مغربی کیلنڈوں ‌میں اختلاف کے باعث کوئی متفقہ تاریخ مقرر نہ کرسکی۔

آرتھوڈاکس ایسٹرن چرچ ایسٹرکی تاریخ کا تعین جولین کیلنڈر سے کرتا ہے۔ مغربی ممالک میں یہ تہوار 22 مارچ سے 25 اپریل تک کسی اتوار کو منایا جاتا ہے۔

کچھ محققین کے مطابق ایسٹر موسم بہار کی اینگلو سیکسن دیوی تھی اور یہ جشن دراصل بہار کا جشن ہے جو یسوع مسیح کی ولادت سے قبل بھی منایا جاتا تھا۔ ہندوستان میں یہ تہوار ہولی کے نام سے، انہیں دنوں اوراسی طریقے سے منایا جاتا ہے۔ ایران میں اسے نوروز کہتے ہیں اور وہاں یہ 21 مارچ کو منایا جاتا ہے۔

خرگوش اورانڈوں کی روایت


ایسٹر کے تہوار سے جُڑی سب سے دلچسپ روایت’ ایسٹر ایگز‘ اور ’ ایسٹربنی ‘کی ہے۔ ایسٹر پربچے نہایت شوق اور دلچسپی کے ساتھ انڈوں کو قوس و قزاح کے رنگوں میں رنگ دیتے ہیں جس کے بعد عزیز و اقارب کے ساتھ کھیل کے مقابلوں میں انہیں استعمال کیا جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ’ ایسٹر بنی‘ جرمن تارکین وطن کی جانب سے امریکا میں متعارف کرایا گیا تھا، اسی طرح انڈوں پر سجاوٹ کا آغاز17 ویں صدی میں جرمنی سے ہی ہوا تھا اور دو سو سال گزر جانے کے بعد بھی یہ روایت آج تک زندہ ہے۔

ایسٹر پرانڈوں اور خرگوش کی روایات کا تعلق مسیحی مذہب سے نہیں ہے اور ان کا ذکر مسیحی برادری کی مقدس کتاب انجیل میں بھی نہیں ملتامگرصدی در صدی ایسٹرسے جڑی یہ روایات پروان چڑھتی گئی۔

اِنسائیکلوپیڈیا میں ایسٹر کے دو مشہور نشانوں یعنی انڈے اور خرگوش کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ ”‏انڈا ایک نئی زندگی کی طرف اِشارہ کرتا ہے جو خول توڑ کر ایک مجازی موت پر غالب آتی ہے۔‏ اِس میں یہ بھی بتایا گیا:‏ ”‏چونکہ خرگوش ایک ایسے جانور کے طور پر جانا جاتا تھا جس میں بہت زیادہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت ہے اِس لیے وہ موسمِ‌بہار کی زرخیزی کی طرف اِشارہ کرتا تھا‘‘۔‏‏


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں