The news is by your side.

Advertisement

گھر کے کچرے سے پیسے بنانا آسان، تھوڑی سی محنت درکار!

لاہور: کراچی سمیت ملک کے کئی شہروں میں عوام سڑکوں پر بکھرے کچرے سے پریشان رہتے ہیں، لیکن اسی کچرے کو ری سائیکل کر کے پیسے بھی کمائے جا سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں لاہور میں قائم آبرو فاؤنڈیشن نامی ادارے کی سی ای او روبینہ شکیل قریشی نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کچرے سے لوگ پریشان ہیں لیکن اس کا حل آسانی سے نکالا جا سکتا ہے۔

روبینہ قریشی نے بتایا کہ کچرے کو صحیح طرح سے ٹھکانے لگانے پر ایک گھر 2 ہزار روپے تک کما سکتا ہے۔

انھوں نے کہا لوگ کراچی میں کچرے کے مسئلے سے پریشان ہیں، اس مسئلے کا حل نہیں نکل رہا لیکن اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے، بہت آسانی سے اور اچھے طریقے سے اس کا انتظام کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ ہم نے لاہور میں کیا۔

انھوں نے کہا ہم اس سلسلے میں لوگوں کی کاؤنسلنگ کرتے ہیں، انھیں سمجھاتے ہیں کہ آپ کے گھروں میں جو کوڑا پیدا ہو رہا ہے اسے اپنے گھروں ہی میں فیبریکیٹ کریں، باہر گلیوں اور سڑکوں پر اس کے پیکٹ بنا کر نہ رکھیں، کیوں کہ کچرا چننے والے لوگ ان تھیلیوں کو کھول کر اپنی مطلب کی چیزیں نکال کر باقی ویسے ہی بکھرا چھوڑ دیتے ہیں، جس کی وجہ سے نالیاں بھی بند ہو جاتی ہیں، گٹر بند ہو جاتے ہیں، اور یہ بیماریاں پھیلنے کا سبب بھی بنتا ہے۔

آرزو ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کی سی ای او روبینہ شکیل قریشی نے بتایا کہ گھروں میں جو کوڑا بنتا ہے، ان میں سے سوکھا کوڑا تو ان تھیلیوں میں بالکل نہ ڈالا جائے جو سڑک پر پھینکی جاتی ہیں، کیوں کہ اسے ری سائیکل کر کے پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پلاسٹک کی تھیلیاں بھی دیگر کچرے سے الگ رکھیں، اس سے اینٹ نما سخت بنڈل بنائے جا سکتے ہیں جو مختلف جگہوں پر استعمال ہو سکتے ہیں، یہاں لاہور میں بہت سے لوگ جھگیوں میں رہتے ہیں، یہ پلاسٹک اینٹ ان کے کام آ سکتی ہے۔

روبینہ قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ لاہور میں ہمارے پاس اس وقت 5 ہزار سے زائد بچے مفت پڑھ رہے ہیں، جن کے لیے 30 فی صد فنڈ اسی سوکھے کوڑے سے پیدا ہو رہا ہے، اس سلسلے میں سات آٹھ ہزار سے زائد لوگ ہماری مدد کر رہے ہیں، ہماری ٹیم چھوٹی ہے، وسائل کم ہیں، اگر وسائل بڑھائے جائیں تو مزید بہتر کام کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ موجودہ صورت حال میں اپنے علاقوں کو صاف رکھنے کے لیے ہمیں خود ہی کچھ کرنا ہوگا، کراچی کے کچرے کا حل لاہور کے ماڈل کے ذریعے ممکن ہے، لاہور میں سینکڑوں گھرانے کچرا ری سائیکل کر رہے ہیں، اس لیے اپنی گلی اور سڑک کو بھی گھر سمجھیں، کچرا نہ پھینکیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں