The news is by your side.

Advertisement

کیا آپ ہر وقت کچھ کھاتے رہنا چاہتے ہیں؟

جب کوئی انسان ذہنی یا جذباتی دباؤ کا سامنا کرتا ہے اور یہ مسئلہ شدید تر ہوجاتا ہے تو اس کے رویے، عادات اور طرزِ زندگی پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔

مایوس کُن خیالات کا اظہار، بیزاری، کام میں دل نہ لگنا اور دیگر عام مسائل کے علاوہ اکثر شدید دباؤ اور جذباتی تناؤ کا شکار کوئی بھی فرد اچانک بہت زیادہ اور بھوک محسوس نہ کرنے کے باوجود کچھ نہ کچھ کھاتے رہنا چاہتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اس طرح وہ اپنے جذبات کی تسکین کرتا ہے اور خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی ذہنی اور جذباتی حالت کی وجہ سے اس کی غذائی عادات میں بھی تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے۔

عموما اس کیفیت میں لوگ فاسٹ فوڈ، کیک، آلو کے چپس اور چاکلیٹ جیسی اشیا کی طرف رغبت محسوس کرتے ہیں۔

اگر کوئی فرد ذہنی دباؤ اور اس جذباتی کیفیت سے عرصے تک باہر نہیں نکل سکے اور اسی طرح کھاتا رہے تو اس کے بنج اییٹنگ ڈس آرڈر( Binge Eating Disorder) میں مبتلا ہوجانے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس میں دماغ میں گلوکوز کی مقدار انتہائی کم ہوتی ہے اور اسی وجہ سے دماغ سست اور ایسا فرد خود کو غیر حاضر محسوس کرتا ہے۔

اس مرض کی ابتدائی شکل اور عام علامات یہ ہوسکتی ہیں۔

وقت بے وقت اور بھوک نہ ہونے کے باوجود کھانا۔
جلدی جلدی منہ چلانا یا تیزی سے کھانا۔
پیٹ بھر جانے کے باوجود کھانے سے ہاتھ نہ روکنا۔
خاص طور پر رات کو اٹھ کر کھانا۔

ایسے افراد کو چاہیے کہہ وہ کسی ماہر معالج سے رجوع کریں۔ اپنے کسی قریبی دوست سے اپنی اس حالت اور کیفیت کا ذکر کریں اور خاص طور پر ذہنی دباؤ سے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے ضروری محسوس کریں تو ماہرِ نفسیات سے بھی مشورہ کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں