(13 جنوری 2026): انڈا غذائیت سے بھرپور غذاؤں میں شمار ہوتا ہے اور ماہرین خوراک بھی اسے کھانے کا مشورہ دیتے ہیں، لیکن کولیسٹرول کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات اکثر لوگوں کو الجھن میں ڈال دیتے ہیں کہ روزانہ کتنے انڈے کھانا محفوظ ہے۔
ماہر غذا پرمیت کور نے اسی پر بات کرتے ہوئے برسوں پرانی الجھن دور کی ہے۔ بھارتی شہر گڑگاؤں کے مرینگو ایشیا اسپتال کی رجسٹرڈ ڈائیٹشین کے مطابق اگر انڈوں کو صحیح مقدار میں اور صحت مند طریقے سے پکا کر کھایا جائے تو انہیں روزمرہ کی خوراک میں بلا خوف شامل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزن کم کرنے کیلیے کون سا انڈا بہتر ہے، اُبلا ہوا یا فرائیڈ؟
پرمیت کور کے مطابق انڈا اعلیٰ معیار کی پروٹین، فیٹس اور ضروری وٹامنز جیسے وٹامن D، B12، A اور E فراہم کرتا ہے، اس میں سیلینیم اور آئرن جیسے معدنیات کے ساتھ ساتھ Choline بھی پایا جاتا ہے جو دماغی افعال، میٹابولزم اور خلیوں کی صحت کیلیے انتہائی ضروری ہے۔
ڈائیٹشین کا کہنا ہے کہ انڈا پروٹین کا مکمل ذریعہ ہے اور یہ متعدد ایسے اجزا فراہم کرتا ہے جو مجموعی صحت کیلیے مفید ہے۔
روزانہ کتنے انڈے کھانا محفوظ ہے؟
پرمیت کور نے بتایا کہ صحت مند افراد کیلیے روزانہ 1 سے 2 انڈے یا پھر ہفتے میں 7 کُل انڈے کھانا عام طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے، انڈوں میں موجود کولیسٹرول کا خون کے کولیسٹرول پر اثر، سیچوریٹڈ اور ٹرانس فیٹس کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ افراد جو پہلے سے ہائی کولیسٹرول، ذیابیطس یا دل کے امراض میں مبتلا ہیں انہیں انڈا اور خاص طور پر اس کی زردی اعتدال کے ساتھ استعمال کرنی چاہیے۔
ماہر غذا نے واضح کیا کہ اگرچہ انڈے کی زردی میں کولیسٹرول ہوتا ہے لیکن یہ اتنا نقصان دہ نہیں جتنا پہلے سمجھا جاتا تھا، دل کے مریضوں کو اس کی مقدار کا خیال رکھنا چاہیے اور اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔
انڈے کھانے کا صحت مند ترین طریقہ
پرمیت کور کے مطابق انڈے کو پکانے کا طریقہ اس کے صحت پر اثرات میں اہم کردار ادا کرتا ہے، ابلوا ہوا انڈا بہترین انتخاب ہے لیکن مکھن یا زیادہ تیل میں تلنے سے ان کے غذائی فوائد کم ہو سکتے ہیں۔
نوٹ: مذکورہ مواد، مشورہ یا عمومی معلومات ماہر غذا کی ذاتی رائے ہے، مستند طبی رائے کیلیے ہمیشہ ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


