ہفتہ, جولائی 18, 2026
اشتہار

جرمنی میں زیر علاج ایبولا وائرس کے شکار امریکی ڈاکٹر سے متعلق اہم خبر

اشتہار

حیرت انگیز

برلن (07 جون 2026): جرمنی میں زیر علاج ایبولا وائرس کے شکار امریکی ڈاکٹر پیٹر اسٹافورڈ صحت یاب ہو گئے ہیں۔

جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں خدمات انجام دیتے ہوئے ایبولا وائرس کا شکار ہونے والے ایک امریکی ڈاکٹر دو ہفتوں سے زائد عرصے تک جرمنی میں علاج کے بعد صحت یاب ہو گئے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق جرمنی کے دارالحکومت برلن کے چیریٹی اسپتال نے بتایا کہ مذکورہ 39 سالہ مریض پیٹر اسٹافورڈ کی صحت اب ٹھیک ہے اور انھیں ہفتے کے روز قرنطینہ سے نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

امریکی سرجن کا تعلق مشنری گروپ سے ہے جو کانگو میں خدمات سر انجام دے رہا تھا، ڈاکٹر پیٹر کانگو میں مریض کا آپریشن کرتے ہوئے ایبولا کی نئی شکل کے وائرس کا شکار ہوئے تھے، جس کے بعد انھیں خصوصی طیارے کے ذریعے یوگنڈا سے جرمنی کے برلن چیریٹی اسپتال لایا گیا تھا۔

ایبولا وائرس پیٹر اسٹافورڈ
ایبولا وائرس پیٹر اسٹافورڈ

اور انھیں 20 مئی کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، جب ٹیسٹ سے یہ تصدیق ہوئی کہ وہ ایبولا وائرس کی نایاب قسم بونڈی بوگیو وائرس (Bundibugyo virus) سے متاثر ہیں۔ یہ ایبولا کی وہ قسم ہے جس کی نشان دہی مشرقی اور وسطی افریقہ میں پھیلنے والی حالیہ وبا میں ہوئی ہے۔

برلن چیریٹی اسپتال نے دو ہفتے کے قرنطینہ کے بعد امریکی ڈاکٹر کو صحت یاب قرار دے دیا۔ ان کی اہلیہ اور 4 بچے، جن میں بیماری کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں لیکن ابتدائی طور پر انھیں ’’زیادہ خطرے والے رابطوں‘‘ (ہائی رسک کانٹیکٹس) میں شمار کیا گیا تھا، ان کے بعد برلن پہنچے۔ انھیں اسپتال کے ایک علیحدہ حصے میں قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔

بونڈی بوگیو نامی ایبولا کی نایاب قسم کی اب تک کوئی منظور شدہ ویکسین موجود نہیں ہے، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ایبولا وائرس کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے، اور وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر 488 تک پہنچ گئی ہے۔

کانگو میں خطرناک ایبولا وائرس کے باعث اب تک 86 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی ایبولا کے اب تک 19 کیسز اور 2 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔

واضح ہرے کہ اگرچہ ایبولا کی اس قسم کے خلاف تین ویکسینز پر تحقیق جاری ہے اور ان کے آزمائشی مراحل کو تیز کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، تاہم بونڈی بوگیو قسم کے ایبولا وائرس کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین موجود نہیں ہے۔ اسٹافورڈ نے بتایا کہ ان کے علاج میں ایسی تجرباتی ادویات اور طریقۂ علاج سے کام لیا گیا جن کے اس وائرس کے خلاف مؤثر ہونے کے لیے اس وقت آزمائشی مراحل جاری ہیں۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں