The news is by your side.

Advertisement

امریکا کے جنگ کے ‘نئے طریقے’ پر ایرانی صدر کی شدید نکتہ چینی

تہران: ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے امریکا کے جنگ کے ‘نئے طریقے’ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کو ممالک کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں نئے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے براہ راست امریکا پر شدید نکتہ چینی کی۔

ابراہیم رئیسی نے خطاب میں کہا پابندیاں لگانا امریکا کا جنگ کرنے کا نیا طریقہ ہے، انھوں نے امریکا کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اقتصادی پابندیوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

ایرانی صدر نے منگل کو اپنے خطاب میں کہا کہ ایران عالمی طاقتوں کے ساتھ ایٹمی مذاکرات دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے جو امریکی پابندیوں کو ہٹانے کا باعث بنے گا، یاد رہے کہ 2015 کے ایٹمی معاہدے کی بحالی کے بارے میں مذاکرات رک گئے ہیں۔

ابراہیم رئیسی نے کہا 2018 میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے عائد امریکی پابندیاں کرونا وائرس کی وبا کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم تھے۔

واضح رہے کہ رئیسی نے تہران سے ڈیجیٹل طور پر جنرل اسمبلی میں خطاب کیا تھا، ایران کے علاوہ بعض دیگر ممالک کے رہنماؤں نے بھی نیویارک میں جسمانی طور پر موجود ہونے کی بجائے اپنے ملک سے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں