The news is by your side.

Advertisement

انفرا اسٹرکچر اور ڈیموں کے بڑے منصوبے منظور

اسلام آباد: وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت ایکنک اجلاس میں آج انفرا اسٹرکچر اور ڈیموں کے بڑے منصوبے منظور کیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق شوکت ترین کی صدارت میں ہونے والے ایکنک اجلاس میں وفاقی وزرا، معاونین اور مشیروں سمیت وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، اجلاس میں ایکنک نے للہ انٹرچینج سے پنڈدانخان تا جہلم 128 کلو میٹر شاہراہ دو رویہ کا منصوبہ منظور کیا۔

اس سلسلے میں جاری اعلامیے کے مطابق یہ منصوبہ 3 سال میں 12.76 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔

ایم 8 تربت مند طویل شاہراہ کی ایرانی بارڈر تک تعمیر نو کا منصوبہ بھی منظور کیا گیا، یہ منصوبہ 10.461 ارب کی مالیت سے 2 سال میں مکمل کیا جائے گا، یہ شاہراہ گوادر رتوڈیرو موٹر وے سے کرمب تک مکمل کی جائے گی۔

پنجگور تا کچک تا آواران 228 کلو میٹر طویل شاہراہ کی تعمیر کا منصوبہ بھی منظور کیا گیا ہے، یہ منصوبہ 14.68 ارب کی لاگت سے پی ایس ڈی پی سے فنڈنگ پر مکمل ہوگا، خضدار کچلاک روڈ 81.58 ارب سے دو رویہ کا 330 کلو میٹر کا منصوبہ بھی منظور کیا گیا۔

دیگر منصوبوں میں گلگت تا شندور 49.94 ارب کی لاگت سے 216 کلو میٹر روڈ کی تعمیر، استور ویلی روڈ بحالی، تھلچی تا شونتر 19.19 ارب سے 121 کلو میٹر شاہراہ کی تعمیر شامل ہیں۔

کیچ میں اسٹوریج ڈیم کا 11.78 ارب کا منصوبہ بھی منظور کیا گیا ہے، جو 2025 میں مکمل ہوگا، پنجگور اسٹوریج ڈیم کا 12.78 ارب کا منصوبہ بھی منظور ہو گیا، ایک اور منصوبہ آواران ڈیم کی 14.86 ارب روپے میں تعمیر کا بھی شامل ہے۔

ان منصوبوں کے علاوہ آج اجلاس میں سندھ کے 12 اضلاع میں فروغ تعلیم کا 27.16 ارب کا 5 سالہ منصوبہ، کراچی میں 31.19 ارب سے آئی ٹی پارک کی تعمیر کامنصوبہ، اور سیالکوٹ میں 16.64 ارب سے اپلائیڈ انجینئرنگ یونی ورسٹی کی تعمیر کا منصوبہ بھی منظور کیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں