site
stats
اہم ترین

ای سی او کانفرنس، وژن 2025ء منظور، مقبوضہ علاقوں کی آزادی کیلئے مشترکہ کوششوں پراتفاق

اسلام آباد: ای سی او کانفرنس میں شریک ممالک نے وژن 2025ء کی منظوری دے دی، رکن ممالک نے تیل و گیس کی پائپ لائن بالخصوص بجلی کی پیدوار میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا اور مقبوضہ علاقوں کی آزادی کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا.

اطلاعات کے مطابق پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ ای سی او (اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن) کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا جس کے مطابق خطے کی معاشی ترقی،علاقائی روابط،امن واستحکام کے لیے تمام رکن ممالک مل کر کام کریں گے، تنظیم کی سلور جوبلی کے موقع پر خواہش مند ممالک اور تنظیموں کو رکنیت دی جائے گی ۔

eco-post-1

اعلامیے کے مطابق تنظیم کے نصب العین کو سامنے رکھتے ہوئے معاہدوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا،اقوام متحدہ کے چارٹرڈ کے تحت ریاستوں کی خود مختاری کا احترام،تنازعات کے حل پر زور، عالمی سطح پر درپیش چیلنجز سے نمٹنے، علاقائی روابط کے لیے سیاسی،معاشی،ثقافتی،تکنیکی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید پڑھیں : ہم پرامن ہمسائیگی پریقین رکھتےہیں، مضبوط روابط کیلئے ای سی او اہم فورم ہے، وزیراعظم

ارکان ممالک نے سائبر،توانائی،ریل،روڈ،بندرگاہوں کے ذریعے رابطے بڑھانے،رکن ممالک میں تعلیمی،سائنسی اداروں،عوامی رابطے کے فروغ،رکن ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

eco-post-2

ای سی او سربراہ اجلاس میں وژن 2025 کی منظوری دی گئی جس کے تحت ترقیاتی منصوبوں کے لیے ای سی او بینک کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا،رکن ممالک نے ای سی او ری انشورنس کمپنی فعال کرنے،تیل اور گیس پائپ لائنز،بالخصوص بجلی کی پیداوار میں سرمایہ کاری کا فیصلہ بھی کیا گیا۔


یہ بھی پڑھیں: رکن ممالک کے سربراہان نے علاقائی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا


اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ متعلقہ اداروں کو ای سی او ریجنل الیکٹرک سٹی مارکیٹ کے قیام کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے،جمہوریت کو درپیش خطرات،امتیازی ویزا پالیسی، معاشی پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جمہوریت کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے منتخب حکومتوں کو مضبوط کیا جائے،رکن ممالک کا مقبوضہ علاقوں کی آزادی کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top