ہم پرامن ہمسائیگی پریقین رکھتےہیں، مضبوط روابط کیلئے ای سی او اہم فورم ہے، وزیراعظم -
The news is by your side.

Advertisement

ہم پرامن ہمسائیگی پریقین رکھتےہیں، مضبوط روابط کیلئے ای سی او اہم فورم ہے، وزیراعظم

اسلام آباد: اقتصادی تعاون تنظیم کا تیرہواں سربراہ اجلاس جاری ہے ، وزیراعظم نوازشریف اجلاس کی صدارت اورمیزبانی کررہےہیں، سربراہ اجلاس میں اقتصادی تعاون اور علاقائی رابطے بڑھانے پر غور کیا جارہا ہے، اجلاس میں وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھاکہ تنظیم علاقائی تعاون کی ایک بہترین مثال بن سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اقتصادی تعاون تنظیم کا تیرہواں سربراہ اسلام آباد میں شروع ہوگیا ، 13 ویں اجلاس کا موضوع ” علاقائی خوشحالی کیلئے رابطے” ہے جسکی چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تناظر میں خصوصی اہمیت ہے، رکن ممالک توانائی، بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ اور تجارت کے شعبوں میں علاقے کے اندر اور مختلف خطوں کے درمیان رابطے بڑھانے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔

سربراہ اجلاس میں افغانستان، آذربائیجان، قازخستان، کرغزستان، ایران، تاجکستان، ترکی، ترکمانستان اور ازبکستان اور میزبان ملک پاکستان سمیت دس رکن ممالک شریک ہیں، جبکہ چین خصوصی نمائندے کی حیثیت سے شرکت کر رہا ہے۔

ترکی، ایران،تاجکستان اور آذربائیجان کے صدور سمیت زیادہ تر سربراہ مملکت اور حکومت جبکہ کرغزستان کے وزیراعظم اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔

سربراہ اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف ، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان، ایران کے صدر حسن روحانی، آذربائیجان کے صدر الہام علیوف، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان، ترکمانستان کے صدر قربان علی بردی محمدوف، کرغزستان کے وزیراعظم سورن بے شری پووچ جین بی کوف اور ازبکستان کے نائب وزیراعظم اوگبک روزی کولوف شریک ہیں۔

سربراہ اجلاس میں اسلام آباد اعلامیہ اور اقتصادی تعاون تنظیم کے وژن 2025 کی منظوری دی جائے گی، جسے وزراء کی کونسل منظور کرچکی ہے، جو اقتصادی تعاون اور روابط بڑھانے کیلئے ایک لائحہ عمل پر مشتمل ہے۔

اجلاس کے اختتام پر اعلان اسلام آباد جاری کیا جائے گا۔

ای سی او کا خطہ بے پناہ وسائل سے مالامال ہے، مضبوط روابط کیلئے ای سی او اہم فورم ہے، وزیراعظم

اجلاس کے تمام مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ای سی او کا خطہ بے پناہ وسائل سے مالامال ہے،علاقائی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ای سی او اہم فورم ہے، ای سی او علاقائی تعاون کی ایک بہترین مثال بن سکتا ہے

وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ  اب وقت آگیا ہے کہ ہم خطےکی ترقی اور خوشحالی کا سوچیں، خطے کے ممالک پہلے سے ہی یہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں، دنیا کی 52فیصد تجارت ای سی او خطے سے ہوتی ہے، وقت آگیا ہے ہم اپنا تاریخی کردار ادا کریں۔

نوازشریف نے کہا ہم پُرامن ہمسائیگی پر یقین رکھتےہیں، ایک  دوسرے سےتعاون کرکے مشترکہ ترقی کا ہدف حاصل کرسکتےہیں، پاکستان کی اہمیت وسط ایشیا اور ای سی او خطے کے لیے اہم ہے، اپنےاداروں کی کارکردگی کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان خطے کے ملکوں کو مصنوعات کی آسان رسائی فراہم کرتا ہے۔

سی پیک سے توانائی،زراعت کے شعبوں میں ترقی ہوگی، ہم سب خطے کےعوام کی خوشحالی چاہتے ہیں، تجارت ، توانائی، علاقائی روابط ترجیحات میں شامل ہیں، مشترکہ خوشحالی کے لیے روابط کا فروغ بہت ضروری ہے، ریلوے، سڑکیں اور گیس لائنز خطے کے ممالک کو قریب لارہی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ مشترکہ فوائد اور ای سی او کو فعال بنانے کیلئے پاکستان کے سیاسی و معاشی استحکام اور اب بہتر انفراسٹرکچر بھی ہے ساٹ وزیر اعظم نے ای سی او سیکریٹریٹ کو اس کامیاب اجلاس کے انعقاد پر مبارک باد دی۔

اقتصادی تعاون تنظیم ای سی او سربراہ کانفرنس، سکیورٹی اور ٹریفک پلان

حکومت نے اقتصادی تعاون تنظیم ای سی او سربراہ کانفرنس کیلئے سکیورٹی اور ٹریفک پلان کی باضابطہ منظوری دیدی، راولپنڈی اور اسلام آباد میں یکم مارچ کو مقامی تعطیل جبکہ 28 فروری کو ایک بجے کے بعد تعلیمی اداروں اور دفاتر میں چھٹی کردی جائے گی، 28 فروری سہ پہر سے یکم مارچ رات تک کشمیر ہائی وے زیرو پوائنٹ سے سرینا چوک تک عام ٹریفک کیلئے بند رہے گی۔

گزشتہ روز ای سی او سمٹ سکیورٹی کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار کی زیرصدارت راولپنڈی اور اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا، دوران سمٹ پاکستان آنے والے سربراہان مملکت ، سربراہان حکومت اور غیر ملکی وفود کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے گی، ای سی او اجلاس کی اہمیت کے پیش نظر وزارت داخلہ نے جڑواں شہروں کے رہائشیوں سے تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار کا کہنا تھا کہ وی آئی پی سکیورٹی کو یقینی بنانے اور ٹریفک کو متبادل راستوں سے رواں رکھنے کے ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے شہریوں کو کم سے کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑے، ای سی او سمٹ کی سکیورٹی محض انتظامی معاملہ ہی نہیں بلکہ پاکستان کے امیج کا سوال ہے۔

اقتصادی تعاون کی تنظیم کیا ہے ؟

اقتصادی تعاون کی تنظیم ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جس میں دس ممالک شامل ہیں۔ یہ رکن ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع ترتیب دے کر انہیں ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔

اس کے رکن ممالک میں افغانستان، آذربائیجان، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، تاجکستان، ترکی، ترکمانستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ ای سی او کا صدر دفتر ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع ہے۔ اس تنظیم کا مقصد یورپی اقتصادی اتحاد کی طرح اشیاء اور خدمات کے لئے واحد مارکیٹ تشکیل دینا ہے۔

ای سی او کے رکن ممالک

یہ تنظیم 1985ء میں ایران، پاکستان اور ترکی نے مل کر قائم کی تھی۔ اس تنظیم نے علاقائی تعاون برائے ترقی  Regional Cooperation for Development یعنی آر سی ڈی کی جگہ لی جو 1962ء میں قائم ہوئی اور 1979ء میں اس کی سرگرمیاں ختم ہوگئیں۔ 1992ء کے موسم خزاں میں افغانستان سمیت وسط ایشیا کے 7 ممالک آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کو بھی تنظیم کی رکنیت دی گئی۔
رکن ممالک کے درمیان 17 جولائی 2003ء کو اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم تجارتی معاہدہ (ECOTA) پر دستخط کئے گئے۔
اس تنظیم کے تمام رکن ممالک موتمر عالم اسلامی (او آئی سی) کے بھی رکن ہیں جبکہ 1995ء سے ای سی او کو او آئی سی میں مبصر کا درجہ بھی حاصل ہے۔

آرسی ڈی کے تحت تینوں ممالک میں راابطہ قائم کرنے کے لیے  شاہراہ ٔ آرسی ڈی بھی قائم کی گئی تھی جو کہ  پاکستان میں این-25 کہلاتی ہے اورسندھ کوبلوچستان سے منسلک کرتی ہے اوراس سے آگے پاکستان کو ایران اور ترکی سے بھی جوڑتی ہے۔حال ہی میں اس شاہراہ کو گوادر سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں