ای سی او اجلاس ، ممالک کے سربراہان نے علاقائی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا -
The news is by your side.

Advertisement

ای سی او اجلاس ، ممالک کے سربراہان نے علاقائی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا

اسلام آباد : اقتصادی تعاون کی تنظیم میں شریک ممالک کے سربراہان نے علاقائی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے ای سی او کے اجلاس میں شریک ملکوں کے سربراہان نے خطے میں اقتصادی تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رکن ممالک کو باہمی تجربات اور افرادی قوت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

اکیس ویں صدی ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشت کا دور ہے،ایرانی صدر

ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ اکیس ویں صدی ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشت کا دور ہے، اقتصادی سرگرمیاں مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہورہی ہیں، مواصلات میں ایران کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، برادر ملک پاکستان میں سربراہ اجلاس کا انعقاد خوش آئند ہے، روابط کا فروغ ایشائی ممالک کی ترقی اورخوشحالی کی ضمانت ہے۔

عالمی مسائل کےحل کے لئے او آئی سی اور دیگر فورمز بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں، ترک صدر

اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوگان کا کہنا تھا کہ خطے کی افرادی قوت اور مہارت سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور اس کیلئے ممالک کے درمیان سیاسی ہم آہنگی ضروری ہے، عالمی مسائل کےحل کے لئے او آئی سی اور دیگر فورمز بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں۔

علاقائی تعاون کے فروغ میں پاکستان کا کردار اہم ہے، صدرتاجکستان

صدرتاجکستان امام علی رحمان نے علاقائی تعاون کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا، انکا کہنا تھا کہ کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان کے شکر گزار ہیں، ای سی اوتنظیم کا بڑھنا رکن ممالک کے لیے اہم ہے، رکن ممالک کا تعاون تجارتی، علاقائی روابط کے لیے اہم ہے، تجارتی تعاون علاقائی روابط کے لیے نہایت اہم ہے۔

وژن 2025سے علاقائی تجارت کو فروغ حاصل ہوگا، نائب ازبک وزیراعظم

نائب ازبک وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ازبکستان ترقی اورخوشحالی کے وژن میں شریک ہے، جی ڈی پی میں اضافہ اور مغربی ممالک پر انحصار کم ہوا، زراعت کے شعبے میں رکن ممالک میں تعاون اہم ہے، خطے کے ممالک سے مختلف شعبوں میں تعاون کررہےہیں، ازبکستان خطے کی معاشی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لے رہاہے۔

الغ بیگ روزوکلوف نے کہا کہ ای سی او مشرق اور مغرب کو ملانے کیلئے مختصر ترین روٹ ہے، خطے میں پائیدار ترقی کیلئے امن ناگزیر ہے،ای سی او ممالک اپنی مصنوعات کی برآمد سے علاقائی ترقی میں حصہ لے رہے ہیں، وژن 2025سے علاقائی تجارت کو فروغ حاصل ہوگا، ہمسایہ ملکوں سےمشترکہ منصوبوں پر کام کررہے ہیں، تجارت کو فروغ دینے کیلئے مراعات اور استثنیٰ دے رہےہیں، مراعات دے کر ہی تجارت کو بڑھایا جاسکتا ہے، ٹرانسپورٹ شعبے میں ازبکستان بہتر صلاحیتوں کامالک ہے۔

ای سی او ممالک چین کے دوست ہیں، چینی مبصر

چینی مبصر نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ای سی او ممالک چین کے دوست ہیں، علاقائی ترقی میں باہمی تجارت، سرمایہ کاری ، رابطے کا اہم کردار ہے، چین ای سی او کے تمام ممالک میں ترقی اور خوشحالی کا خواہاں ہے، چین حکومت اور عوامی سطح پر روابط کا فروغ چاہتا ہے۔

رکن ممالک کو موجودہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرور ت ہے، قبرص مبصر

قبرص مبصر مصطفیٰ اکینی نے ای سی او سربراہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ رکن ممالک کو موجودہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرور ت ہے، رکن ملکوں کو باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون کرنا چاہیے، ای سی او کےتحت مختلف شعبوں میں ورک شاپس منعقد کی ہیں، سیاحت،خدمات کے شعبے میں ورکشاپس کے مثبت نتائج برآمد ہونگے۔

افغان سفیرعمر ذخیلوال نے ای سی او اجلاس سے خطاب میں کہا کہ افغانستان کی طرف سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں، ای سی او خطے کی سب سے پرانی اور منفرد تعاون تنظیم ہے، وزیراعظم نوازشریف کو چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتےہیں، اجلاس میں رکن ممالک کی تجاویز مفید ہیں، خطے کے تمام وسائل کو مشترکہ مفادات کیلئے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔


مزید پڑھیں : ہم پرامن ہمسائیگی پریقین رکھتےہیں، مضبوط روابط کیلئے ای سی او اہم فورم ہے، وزیراعظم


یاد  رہے اس سے قبل بھی اجلاس کے تمام مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ای سی او کا خطہ بے پناہ وسائل سے مالامال ہے،علاقائی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ای سی او اہم فورم ہے، ای سی او علاقائی تعاون کی ایک بہترین مثال بن سکتا ہے

وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ  اب وقت آگیا ہے کہ ہم خطےکی ترقی اور خوشحالی کا سوچیں، خطے کے ممالک پہلے سے ہی یہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں، دنیا کی 52فیصد تجارت ای سی او خطے سے ہوتی ہے، وقت آگیا ہے ہم اپنا تاریخی کردار ادا کریں۔

نوازشریف نے کہا ہم پُرامن ہمسائیگی پر یقین رکھتےہیں، ایک  دوسرے سےتعاون کرکے مشترکہ ترقی کا ہدف حاصل کرسکتےہیں، پاکستان کی اہمیت وسط ایشیا اور ای سی او خطے کے لیے اہم ہے، اپنےاداروں کی کارکردگی کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان خطے کے ملکوں کو مصنوعات کی آسان رسائی فراہم کرتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں