The news is by your side.

Advertisement

1947 تا 1958: پاکستان کے معاشی پہلوئوں کا تفصیلی تجزیہ

تحریر: اسرار رؤف

جمہوری طرز حکمرانی پر معاشی ناکامی اور انتظامی نااہلیت پر مشتمل صوابدیدی قوتوں نے ہمیشہ یلغار کیے رکھی۔ یہی نصف صدی سے ہمارا قومی بیانیہ رہا ہے، جو قومی وجود کے اندر گہرائی میں اترا ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت اسے مکمل سچ سمجھتی ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ سیاسی قوتوں نے کبھی اس کا متبادل بیانیہ تیار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ایوب خان نے اسی بنیاد پر اپنے ’انقلاب‘ کا جواز پیش کیا لیکن جمہوری نمائندوں نے اپنے مؤقف کے ذریعے اسے کبھی چیلنج نہیں کیا۔ اسی لیے آج بھی ایوب خان کو ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے حالاں کہ ان سے قبل جمہوری حکومت نے جو طویل المدت بنیاد رکھی تھی وہ آج بھی طاق نسیاں پر دھری پڑی ہے۔

پرویز مشرف جیسے تباہ کن شخص نے بھی اقتصادی ابتری کو جمہوری حکومت کے خاتمے کے لیے ایک مضبوط وجہ قرار دیا۔ انھوں نے پاکستان کے پہلے موٹر وے کی تعمیر اور صحت مند معیشت کو ایک طرف کرکے یہ بھی نہیں سوچا کہ اسی حکومت نے ایٹمی دھماکے کے بعد جنم لینے والے مالیاتی مسائل کو سنبھالنے کے لیے اقتصادی ذمہ داری بھی اٹھائی۔ حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد انھوں نے اپنے سات نکاتی ایجنڈے میں بار بار ’معیشت کی بحالی‘ کا راگ الاپا، لیکن کسی نے بھی اس تباہی کی طرف انگلی نہیں اٹھائی جو وہ پیچھے چھوڑ کر گئے۔

یہ ایک حیران کن امر ہے کہ ایوب خان کی نظیر آیندہ بھی کئی کامیاب فوجی مداخلتوں کے ذریعے دہرائی جاتی رہی لیکن جمہوری قوتوں نے اپنے مؤقف سے اس کا راستہ کبھی نہیں روکا۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ اس دوہری ناکامی کے صرف ایک یعنی معاشی ناکامی کے  پہلو کا تجزیہ کیا جائے جسے سہولت کے ساتھ جمہوری حکومتیں ختم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ چناں چہ 58-1947 کے درمیان جو اقتصادی ترقی ہوئی‘ اس کے تجزیے سے یہ بہ خوبی معلوم ہوجائے گا کہ ایوب کے دور میں ہونے والی ترقی کی اقتصادی بنیادیں فوجی قبضے کی وجہ سے ہونے والی اُتھل پتھل سے قبل جمہوری دور میں رکھی جاچکی تھیں۔

آگے بڑھنے کے لیے 1947 ہی میں دو پنج سالہ منصوبے تشکیل دیے گئے تھے جن کے لیے درکار فنڈز بھی مختص کیے گئے (جناب سعید حسن 1957 میں پلاننگ بورڈ کی سربراہی کررہے تھے)۔ فوجی حکومت نے تو تقسیم کی اس اُتھل پتھل کا سامنا نہیں کیا تھا جو پاکستان کی نوزائیدہ اور کمزور ریاست کو درپیش تھی، ایک ایسی ریاست جو عملی طور پر ہر چیز سے محروم تھی۔ ان سب سے بڑھ کر اسے اَسّی لاکھ مہاجرین کو بسانے کے مشکل ترین ہدف کا سامنا تھا (حالیہ آئی ڈی پیز کو کس آسانی سے جہموری حکومت کے کاندھوں پر چھوڑ دیا گیا ہے)

حکومت نے پارلیمنٹ کے ایک قانون کے ذریعے مہاجرین بحالی کی مالیاتی کارپوریشن قائم کی جس کے لیے چار کروڑ روپے (جو اُن دنوں میں ایک بہت بڑی رقم تھی اور یہ بھی خالی خزانے سے نکالی گئی تھی) کا قرض لیا گیا تاکہ مہاجرین کو اسباب حیات فراہم کیے جاسکیں۔ مہاجرین کو بسانے کی یہ ایک بہت بڑی اور منفرد مشق تھی جس کا اندازہ اس حقیقت سے کیا جاسکتا ہے کہ کراچی کی چار لاکھ آبادی (1941 کی مردم شماری کے مطابق) 1947 میں ساڑھے چار لاکھ شمار کی گئی جو 1958 میں بڑھ کر دس لاکھ اٹھتر ہزار ہوگئی۔

ایوب کی حکومت نے یہ جھوٹا پروپیگنڈا کیا کہ ریونیو کی تقسیم کا فارمولا انھوں نے ایجاد کیا حالاں کہ 1952 کے وزیراعلیٰ کانفرنس میں مرکز اور صوبوں کے درمیان ریونیو کی تقسیم پر رضامندی عمل میں آگئی تھی۔ ترقیاتی منصوبوں کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے حکومت نے 1956 میں ایک قومی اقتصادی کونسل تشکیل دی تھی اور لوگوں کو ترقی کے ثمرات پہنچانے کے لیے اسی سال سوشل ویلفیئر کونسل بھی تشکیل دی گئی۔ اسی طرح ایوب کو اپنی اراضی اصلاحات پر بھی بہت ناز تھا لیکن اس حقیقت کو نظرانداز کیا گیا ہے کہ یہ جمہوری حکومت ہی تھی جس نے جنوری 1957 میں لینڈ ریفارم کمیشن تشکیل دی جس نے جنوری 1958 میں تجویز دی کہ ہر زمیندار کی ملکیت میں اچھی آب پاشی والی زمین پانچ سو ایکڑ سے زیادہ اور غیر آب پاشی والی ایک ہزار سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

اس کمیشن نے اضافی زمین کرایہ داروں کو آسان قسطوں پر دینے کی بھی تجویز دی تھی۔ تمام تجاویز ایک ہفتے کی مشاورت کے بعد حکومت نے منظور کرلیں تھیں۔ اس سے قبل 1950 میں صوبہ سرحد کی اسمبلی نے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے اراضی اصلاحات قانون پاس کیا تھا۔ ایک نیا مالیاتی ماحول بنانے کی اشد ضرورت تھی جسے کمزور حکومت نے بنالیا تھا۔ بینکوں اور سوسائٹیز جیسے تعاون کرنے والے متعدد ادارے تشکیل دے دیے گئے تھے تاکہ قرض اور مالیات کے معاملات کا انتظام ہوسکے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو مرکزی دھارے میں لانے کے ساتھ ساتھ حکومت نے میں ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن بھی قائم کی۔ پاکستان انڈسٹریل فنانس کارپوریشن کی تشکیل کی گئی، پاکستان انڈسٹریل کریڈٹ انویسٹمنٹ کارپوریشن قائم کی گئی، جس کے لیے بین الاقوامی بینک اور امریکہ، برطانیہ اور جاپان سے بڑے قرضے لیے گئے۔

آزادی کے وقت پاکستان میں صرف چند بینک رجسٹرڈ تھے جن کے پاس بیس لاکھ روپے سے زیادہ سرمایہ نہیں تھا، 1950 میں حکومت پاکستان نے نیشنل بینک کی بنیادیں رکھیں، جب 1958 میں فوج حکومتی تختہ الٹ رہی تھی اس وقت نیشنل بینک کے اثاثے 755 ملین روپے تھے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری نے دس سال میں زبردست ترقی کی اور اسپنڈلز تقریباً دو لاکھ سے اٹھارہ لاکھ تک اور لومز چار لاکھ سے اٹھائیس لاکھ تک پہنچیں۔ اسی طرح مغربی پاکستان میں پٹ سن کے لیے مشینیں نہیں تھیں، دس سال میں آٹھ ہزار مشینیں لگائی گئیں۔ صنعتی شعبے کی معاونت کے لیے 1952 میں PIDC کی تشکیل کی گئی اور 1957 میں کاٹن کنٹرول بورڈ قائم کیا گیا۔ ٹیکسٹائل مصنوعات کو مزید بڑھانے کے لیے سردار عبدالربّ نشتر نے 1950 میں لائل پور میں کوہ نور ٹیکسٹائل ملز کا افتتاح کیا۔

چٹاگانگ کی چھوٹی بندرگاہ کی گنجائش بڑھائی گئی اور چلنا میں ایک نئی بندرگاہ پر کام شروع کیا گیا جو مونگیا منتقل کیا گیا۔ 1950 میں زرعی اور سائنسی تحقیقی کونسل قائم کی گئی۔ گورنر جنرل غلام محمد نے کراچی میں زیب تن ٹیکسٹائل ملز، صوبہ سرحد میں فرٹیلائزر فیکٹری اور ٹنڈو جام میں زرعی انسٹی ٹیوٹ (اب یونی ورسٹی ہے) کا افتتاح کیا۔ 1953 میں ایک لاکھ دیہات کو خود مختار بنانے کے لیے زرعی مالیاتی کارپوریشن قائم کی گئی اس کے لیے ایک زرعی بینک کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ پاکستان کو تیل کی صرف ایک ہائیڈروجنیٹڈ فیکٹری ملی تھی لیکن 1958 تک مزید چھ ملیں لگائی گئیں۔ گیارہ سال میں چینی کی پیداوار 7932 ٹن سے بڑھ کر تقریباً ڈیڑھ لاکھ ٹن تک پہنچائی گئی۔ مشرقی پاکستان میں پانچ شوگر ملیں تھیں جن میں تین کا مزید اضافہ کیا گیا۔

1951 میں تیل اور گیس کی تلاش کے لیے تین کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے گئے اور 1955 میں سوئی گیس پائپ لائن کراچی، ملتان، لاہور اور لائل پور تک پہنچائی گئی۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (جی ہاں یہ ایوب سے پہلے موجود تھا) نے 1957 میں مشرقی پاکستان میں نیوکلیئر پاور پلانٹ نصب کرنے کا فیصلہ کیا تھا (ایوب خان کے دور میں مشرقی پاکستانیوں کو قابل بھروسا نہیں سمجھا گیا)۔ اس سے دو سال قبل حکومت نے نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے پروگرام کی تیاری پر گیارہ  رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ حکومت نے اسی دوران کرنسی کی چھپائی کے لیے سیکورٹی پرنٹنگ پریس قائم کیا۔ پوسٹ، ٹیلی گراف اور ٹیلی فون سروسز کو بہتر کرنے پر زبردست کام کیا گیا۔

دوسری جنگ عظیم میں ٹرانسپورٹیشن سیکٹر بری طرح تباہ ہوچکا تھا جس کی تعمیر کے لیے پاکستان نے بین الاقوامی تعمیراتی بینک اور امریکہ سے بھاری قرضے لیے۔ 1955 میں کراچی شپ یارڈ مکمل کیا گیا اور پی آئی اے کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 1953 میں پی آئی ڈی سی نے مشرقی پاکستان میں کرنافلی پیپر ملز قائم کیا جس کی پیداوار ایشیا میں سب سے زیادہ تھی لیکن ایوب خان نے یہ قومی اثاثہ داؤد گروپ کو 1964 میں تھالی میں پیش کردیا۔ 1956 میں میپل لیف اور زیل پاک جیسی دو بڑی سیمنٹ فیکٹریاں قائم کی گئیں۔

جمہوری حکومت کے ان گیارہ برسوں میں پاکستان میں کثیر القومی موجودی کا دور بھی شروع ہوا۔ آئی سی آئی نے 1952 میں سرمایہ کاری شروع کی اور یونی لیور نے پیداواری پلانٹ نصب کیے۔ بائر بھی اپنا پلانٹ نصب کرنے کے عمل سے گزر رہی تھی۔ یونی سیف کے تعاون سے ڈی ڈی ٹی کا پلانٹ نصب کیا گیا اور پنسیلین کے پلانٹ کی تنصیب پر کام شروع ہوا اور دیگر ادویاتی صنعتیں آنا شروع ہوئیں۔ کھیلوں کے سامان کی تیاری شروع ہوئی۔ امریکن جنرل ملز نے کراچی میں پلانٹ لگایا۔ جرمنی اور سویڈن کی کمپنیوں نے کام شروع کیا۔ مختلف قسم کی مشینوں اور مصنوعات کی تیاری کے لیے BECO قائم ہوئی۔

اس دور میں بڑی تعداد میں اشیائے صرف کی پیداوار عمل میں آئی۔ آئل ریفائنری بننا شروع ہوئی، وارسک ڈیم کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔ گورنر جنرل نے لیاقت میڈیکل کالج کا افتتاح کیا۔ صدر اسکندر مرزا نے پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کا افتتاح کیا۔ 1950 میں حیدر آباد میں سیکنڈری بورڈ آف ایجوکیشن کا قیام عمل میں لایا گیا، پشاور یونیورسٹی میں پہلے سائنس کالج کا افتتاح ہوا۔ ملتان میں نشتر میڈیکل کالج کی تعمیر شروع ہوئی۔ پاکستان کیبلز کا افتتاح ہوا۔

ایوب خان نے اگر کچھ کیا تو یہ کہ گزرے برسوں میں کی جانے والی کوششوں کا کریڈٹ اپنے سر لیا۔ ایوب خان کے دور میں، بینکاری نظام کی فراہم کردہ قرضہ سہولتوں کے دو تہائی حصے پر 222 انفرادی ڈیپازیٹرز (پاکستان کے دونوں بازوؤں میں) کی اجارہ داری قائم ہوئی۔ انکشاف ہوا کہ پاکستان میں تین ہزار کمپنیوں میں سے صرف چوبیس کا تمام صنعتی اثاثوں پر کنٹرول ہے۔

ایوب خان واضح طور پر صنعتی اشرافیہ کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن گئے تھے اور ان کے غلبے نے پلاننگ کمیشن کے چیف اکانومسٹ ڈاکٹر محبوب الحق کو مایوسی سے یہ اعلان کرنے پر مجبور کردیا کہ کُل صنعتی اثاثوں کا 66 فیصد، انشورنس کا 70 فیصد اور بینکنگ کا 80 فیصد صرف 22 بائیس خاندانوں کی ملکیت ہے۔ یہ ہے اس شان دار ترقی کی حقیقت!

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں