The news is by your side.

Advertisement

فیصل واوڈا بڑی مشکل میں پھنس گئے

اسلام آباد : الیکشن کمیشن پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کی نااہلی کی درخواست پر سماعت تین فروری کو کرے گا ، فیصل واوڈا پر کاغذات نامزدگی میں جعلی حلف نامہ جمع کرانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جعلی حلف نامے کے معاملے پر پی آٹی آئی رہنما فیصل واوڈا کی نااہلی کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی گئی، الیکشن کمیشن فیصل واوڈا کےخلاف دائردرخواست پرسماعت تین فروری کوکرے گا، اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نےفریقین کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

یاد رہے وفاقی وزیرآبی وسائل فیصل واوڈا کی نااہلی کےلیے امن ترقی کےچیئرمین فائق شاہ کی جانب سے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی گئی، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی میں جعلی حلف نامہ جمع کرایا،جعلی حلف نامہ جمع کرانے پرفیصل واوڈا کوآئین کی شق 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا جائے۔

مزید پڑھیں : جعلی حلف نامہ جمع کرانے کا الزام، فیصل واوڈا کی نااہلی کیلیے درخواست دائر

خیال رہے آرٹیکل 62 پارلیمنٹ اراکین کی اہلیت سے متعلق ہے جس کی مختلف شقیں ہیں، جس پر پورا اترنا ضروری ہے، کوئی ایسا شخص پارلیمنٹ کا رکن بننے کا اہل نہیں جو پاکستان کا شہری نہ ہو۔

رکن قومی اسمبلی کی عمر 25 سال ہونا ضروری ہے اور بطور ووٹر اس کے نام کا اندراج کسی بھی انتخابی فہرست میں موجود ہو جو پاکستان کے کسی حصے میں جنرل سیٹ یا غیر مسلم سیٹ کے لئے ہو۔

رکن سینیٹ کی صورت میں 30 سال عمر ہونا ضروری ہے اور ایسے شخص کا صوبے کے کسی بھی حصے میں بطور ووٹر نام درج ہو۔

آرٹیکل 62 ڈی کہتا ہے کہ ایسا شخص اچھے کردار کا حامل ہو اور اسلامی احکامات سے انحراف کے لئے مشہور نہ ہو اور اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتا ہو اور اسلام کے منشور کردہ فرائض کا پابند ہو، نیز کبیرہ گناہ سے اجتناب کرتا ہو۔

آرٹیکل 62 ون ایف کے مطابق پارلیمنٹ کا رکن بننے کا خواہش مند شخص سمجھدار ہو، پارسا ہو، ایماندار ہو اور کسی عدالت کا فیصلہ اس کے خلاف نہ ہو جبکہ اس نے پاکستان بننے کے بعد ملک کی سالمیت کے خلاف کوئی کام نہ کیا ہو اور نظریہ پاکستان کی مخالفت نہ کی ہو۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں