The news is by your side.

Advertisement

نگراں حکمرانوں کو تین روز میں تمام اثاثے ظاہر کرنے ہوں گے، الیکشن کمیشن

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے نگراں وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کو 3 روز کے اندر اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کا حکم جاری کردیا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نگراں وزیراعظم، وزرائےاعلیٰ کو منصب سنبھالنے کے تین روز کے اندر اپنے اور اہل خانہ کے اثاثوں کی تفصیلات ای سی پی میں جمع کرانا لازمی ہوگی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق نگراں حکمرانوں کو فارم ب جمع کرانا ہوگا جس میں انہیں اپنے اور اہلیہ اور بچوں کے تمام اثاثے لازمی ظاہر کرنے ہوں گے ۔

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں وزیراعظم پاکستان اور قائد حزب اختلاف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے جسٹس (ر) ناصر الملک کو بطور نگراں وزیراعظم بنانے کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں: سابق چیف جسٹس(ر)ناصرالملک نگراں وزیراعظم ہوں گے

دوسری جانب چاروں صوبائی حکومتوں نے اب تک کسی بھی شخص کو نگراں وزیراعلیٰ منتخب نہیں کیا، پنجاب اور کے پی کے کی حکومتوں نے اسمبلی کی معیاد ختم ہونے سے قبل اپوزیشن کی مشاورت سے ناموں کا اعلان کیا تھا تاہم پھر اسے واپس لے لیا گیا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود الرشید کی مشاورت سے ناصر سعید کھوسہ کو نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب نامزد کیا تھا جبکہ خیبرپختونخواہ حکومت نے منظور آفریدی کا نام فائنل کیا تھا مگر بعد میں وہ بھی تنازع کا شکار بنا۔

نگراں وزیراعظم ناصر الملک کون ہیں؟

سابق چیف جسٹس ناصر الملک 17 اگست 1950 میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر سوات میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق سوات کے ایک با اثر اور سیاسی پراچہ خاندان سے ہے۔

ناصر الملک کے والد سیٹھ کامران 70 کی دہائی میں سینیٹر رہے جبکہ ان کے بھائی سوات کے میئر بھی رہے۔

سنہ 1972 میں ناصر الملک نے پشاور یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے۔ وطن واپسی پر انہوں نے پشاور ہائی کورٹ میں وکالت کی پریکٹس شروع کردی جبکہ اپنی مادر علمی میں تدریس کے فرائض بھی انجام دیے۔

یہ بھی پڑھیں: نگراں سیٹ اپ کی کلیئرنس کے لیے نیب تیار

ناصر الملک نے پشاور ہائیکورٹ میں 17 سال وکالت کی پریکٹس کی۔ سنہ 1981 میں وہ پشاور ہائیکورٹ بار کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔ بعد ازاں دو بار ہائیکورٹ بار کے صدر منتخب ہوئے جبکہ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے۔

سنہ 1993 سے 1994 تک وہ خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت کے ایڈوکیٹ جنرل کے عہدے پر فائز رہے جہاں انہوں نے صوبائی حکومت کے قانونی معاملات میں مشاورت کے فرائض انجام دیے۔

ناصر الملک سپریم کورٹ کے بائیسویں چیف جسٹس رہے۔ وہ 2013 سے 2014 تک قائم مقام چیف الیکشن کمشنر بھی رہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں