The news is by your side.

Advertisement

پی ٹی آئی نے وزیراعظم کی تقریر کو اشتہاری مہم قرار دے دیا

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نے وزیراعظم کی تقریرکو انتخابی مہم قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ ضمنی الیکشن میں اثرانداز ہونے کی کوشش ہے۔

ترجمان نے وزیر اعظم کی تقریر پر رد عمل میں کہا کہ حکومت اور الیکشن کمیشن گٹھ جوڑ کی مذمت کرتے ہیں۔

پی ٹی آئی ترجمان کا بیان میں کہنا تھاکہ این اے ایک سوبائیس میں انتخابی مہم کا وقت گزرچکا ہے۔ انتخابی مہم کے خاتمے کے بعد خاموش مہم چلانے کی اجازت کیسے دی گئی؟

شریف برادران اورنج لائن منصوبے کی تشہیرکررہے ہیں۔ جسٹس ریٹائرڈ کیانی نے الیکشن کمیشن کواندھا کررکھا ہے۔

جسٹس کیانی اپنی روش تبدیل کریں یا احتساب کے لئے تیارہوجائیں۔ جبکہ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایک خط بھی تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لاہور میں میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے موقع پر پنجاب حکومت کی جانب سے اشتہاری مہم ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ لہٰذا الیکشن کمیشن پنجاب حکومت کی اشہتاری مہم کا نوٹس لے اور صوبائی حکومت کے خلاف کارروائی کرے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے گورنر ہاؤس لاہور کےخطاب اوربعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں مخالفین پرتنقید کی تھی۔

علاوہ ازیں چیف الیکشن کمشنر سردار رضا نے کہاہے کہ وزیراعظم نوازشریف کی پریس کانفرنس الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں ہے بلکہ پریس کانفرنس وزیراعظم اور وزیروں کا حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی پریس کانفرنس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں ہے بلکہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز جاری کرنا اور منصوبوں کا اعلان کرنا خلاف ورزی میں آتاہے۔

انہوں نے کہا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف وزیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ضابطہ اخلاق پر عمل یقینی بنانے کیلئے ٹیمیں موجود ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں