The news is by your side.

Advertisement

الیکشن کمیشن نے وزیراعظم سمیت ارکان قومی اسمبلی کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کردیں

اسلام آباد : الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان 8 کروڑ سے زائد روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں تاہم اندرون اوربیرون ملک کوئی کاروباراور کوئی ذاتی گاڑی نہیں جبکہ ان کے پاس 2 لاکھ روپے کی 4بکریاں بھی موجود ہیں۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنیٹ ارکین کے بعد ارکان قومی اسمبلی کے مالی سال 20-2019 کے گوشواروں کی تفصیلات جاری کردیں۔

جس میں بتایا گیا کہ وزیراعظم عمران خان 8 کروڑ سے زائد روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں ، عمران خان کا اندرون اوربیرون ملک کوئی کاروباراور کوئی ذاتی گاڑی نہیں تاہم 4غیرملکی اکاؤنٹس ہیں، جن میں3 لاکھ 31 ہزار 230 امریکی ڈالرز اور 518 پاؤنڈز موجود ہیں۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے پاس ایک کروڑ 99 لاکھ سے زائد کیش اور 2 لاکھ روپے کی 4بکریاں بھی موجود ہیں جبکہ انھوں نے فیروزوالا میں 80 کنال کےعوض 7 کروڑ سے زائد کا ایڈوانس لے رکھا ہے۔

جاری تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر 8 کروڑ روپے سے زائداثاثوں کے مالک اور ایک کروڑ 26 لاکھ سے زائد رقم کے مقروض ہیں۔

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب ایک ارب 21 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں جبکہ انھوں نے 2 کروڑ روپے کا قرض لے رکھا ہے۔

وزیردفاع پرویز خٹک 15 کروڑ سے زائد مالیت کے اثاثے رکھتے ہیں اور ساس کےاڑھائی کروڑ کے مقروض ہیں، اسی طرح تحریک انصاف کے نور عالم 3 ارب 20 کروڑ سے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں۔

وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے اثاثوں کی مالیت 63کروڑ روپے ہیں جبکہ 51 کروڑ روپے کےغیرملکی اثاثوں کے مالک ہیں ، ان کے پاس 40 تولہ سونا ،1کروڑ سے زائد مالیت کی گاڑی ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی 24 کروڑ روپے مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں ، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود 15 کروڑ روپے سے زائد اثاثے رکھتے ہیں جبکہ وفاقی وزیرحماداظہر 36 کروڑ اور ان کی اہلیہ 28 کروڑ سے زائد مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں۔

وفاقی وزیر اسد عمر کے اثاثوں کی مالیت 66کروڑ روپے سے زائد ہیں ، وفاقی وزیرمرادسعید نے 31 لاکھ روپے مالیت سے زائد کے اثاثے ظاہر کیے ، ان کے پاس ملک کے اندر اور باہر کوئی کاروبار اور جائیداد نہیں۔

عامر محمود کیانی 14 کروڑ 69 لاکھ روپے ، وفاقی وزیر غلام سرور خان 5 کروڑ روپے سے زائد اور فواد چودھری 11 کروڑ 16 لاکھ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں۔

وفاقی وزیر خسرو بختیار 27 کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں ، انھوں نے گاڑی کو والدین کی طرف سے تحفہ ظاہر کیا ہے، اسی طرح وفاقی وزیر سید امین الحق کے پاس ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے ہیں۔

خالد مقبول صدیقی ایک کروڑ روپے سے زائد اثاثوں اورشیخ رشید احمد 4 کروڑ 65 لاکھ روپے کے اثاثوں کے مالک نکلے۔

شہبازشریف نے ملک میں غیرزرعی اراضی کی قیمت ایک کروڑ 47لاکھ ظاہر کی جبکہ سیکڑوں کنال اراضی تحفے کے طور پر ظاہر کی ، انھوں نے 13کروڑ 78لاکھ سے زائد اثاثے برطانیہ میں اور بینک اکاونٹ میں 6کروڑ 39لاکھ روپے ظاہر کیے۔

شہباز شریف نے تمام اثاثوں کی قیمت 24کروڑ 74لاکھ روپےظاہر کی اور جائیداد پر10کروڑ کاقرض بھی ظاہر کیا ، ان کے لاہور میں 14 بینک اکاؤنٹ ہیں۔

اپوزیشن لیڈر نے سیکڑوں ایکڑ زرعی اراضی کی قیمت 26لاکھ روپے ، بینک قرض اور ہاؤس بلڈنگ لون کی مد میں 13 کروڑ 60 لاکھ ظاہر کیے۔

آصف علی زرداری نے66 کروڑ 68 لاکھ کے اثاثے ظاہر اور قرضوں کی مد میں 2 کروڑ 26 لاکھ روپے ظاہرکیے ، ان کے پاس نواب شاہ میں کروڑوں کی جائیداد ہے۔

آصف زرداری نےرتو ڈیرو کی اکثر زمینیں وراثتی ظاہرکی ہیں ، ان کےپاس ایک کروڑ 67 لاکھ کا اسلحہ موجودہے جبکہ پاکستان میں آصف زرداری کا 79 لاکھ کا کاروبار ہے ، گھوڑوں اور پالتوجانوروں کی قیمت 99 لاکھ ظاہر کی گئی ہے۔

بلاول بھٹو کےپاس ایک ارب 58 کروڑ 52لاکھ روپےسےزائد کے اثاثے ہیں ، ان کے اثاثوں میں جی سکس فور اسلام آباد میں گھر تحفے میں ظاہر کیا گیا ، رتو ڈیرو میں زرعی زمین کی قیمت 10ہزار 776 روپےظاہرکی ہے

زرداری گروپ پرائیویٹ لمیٹڈ میں 2 لاکھ 10 ہزارروپے کے شیئرز ظاہر کیے جبکہ بلاول بھٹو نے 12 لاکھ 51 ہزار کے سیونگ سرٹیفکیٹس بھی بتائے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کے8بینک اکاونٹ اور دبئی کی مختلف کمپنیز میں شیئرز بھی ہیں ، انھوں نے 6 کروڑ 76 لاکھ روپے برطانیہ میں وکٹری انٹرپرائزز لمیٹڈ کے حوالے سے اثاثے اور دبئی میں کروڑوں روپے کے اثاثے 18 کمپنیز کےحوالے سے ظاہر کیے گئے ہیں۔

خواجہ سعد رفیق کے12کروڑ سے زائد کے اثاثے ہیں ، انھوں نے قرضوں کی مد میں خواجہ سعد رفیق نے 2 کروڑ 95 لاکھ ظاہر کیے جبکہ ان کےپاس 57 لاکھ سےزائد کی 2 گاڑیاں اور52لاکھ روپےبینک میں موجود ہیں۔

ایازصادق کے پاس 6کروڑ سے زائد کے اثاثے اور 80 ہزار روپے کےزیورات ہیں ، ان کے پاس بینک میں 99 لاکھ سےزائدکی رقم موجود ہے جبکہ گلبرگ لاہورمیں 3 کروڑ سے زائد کا پلاٹ اور 2کروڑ58 لاکھ سے زائد کا ایک اور پلاٹ ظاہر کیا گیا ہے ، ایاز صادق نے6لاکھ 60 ہزار کےاثاثے اہلیہ کےنام ظاہر کیے ہیں۔

شاہدخاقان عباسی نے6 کروڑ کے اثاثے اور 6بینک اکاونٹس میں7 لاکھ کی رقم ظاہر کی ، ان کی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں تاہم پاکستان میں 10لاکھ کی انویسٹمنٹ ظاہر کی ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کی 4ایکڑکی زرعی اراضی،11لاکھ کانارووال میں رہائشی پلاٹ ہیں جبکہ انھوں نے رحیم یار خان میں 8ایکڑکی زمین ، صرف 10ہزار کی سرمایہ کاری ظاہر کی۔

احسن اقبال 24لاکھ کی گاڑی اور 15تولےکےزیورات کےمالک ہیں اور ان کےپاس 5لاکھ سے زائد رقم بینک میں ظاہر کی گئی جبکہ اندرون ملک اور بیرون ملک کوئی کاروبار ظاہرنہیں کیاگیا۔

سابق وفاقی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما خرم دستگیر نے 12لاکھ 99ہزار سے زائد کا کاروبار ،22لاکھ کی گاڑی اور 9لاکھ سے زائد پیسےبینک اکاونٹ میں ظاہر کیے۔

ریاض فتیانہ 54لاکھ 86ہزار سے زائد کے اثاثوں ، غلام بی بی بھروانہ 37لاکھ سے زائد کے اثاثوں اور برجیس طاہر کے پاس 3کروڑ 13لاکھ سے زائد کے اثاثوں کی مالک ہیں جبکہ رانا تنویرحسین کے پاس 22کروڑ 68لاکھ سے زائد کے اثاثے اور شیخ روحیل اصغر کے پاس 16کروڑ 70لاکھ سے زائد کےاثاثے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں