The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس بھیانک صورت حال، میتوں کے انبار، گلیوں سے 800 لاشیں برآمد

کوئٹو: جنوبی امریکی ملک ایکواڈور میں کرونا سے مرنے والے افراد کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ گئی، پولیس نے گلیوں اور گھروں سے 800 لاشیں قبضے میں لے کر اُن کی تدفین کی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایکواڈور میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ ہوگیا جس کے بعد وہاں کی صورت حال بھیانک ہوگئی ہے۔

ایک روز قبل پولیس نے صرف ایک شہر گویاکل کی گلیوں اور گھروں سے 800 افراد کی لاشیں اٹھا کر انہیں دفن کیا۔

رپورٹ کے مطابق ایکواڈور کے شہری کرونا سے مرنے والے عزیزوں کی لاشیں کو اٹھانے، دفنانے یا جلانے سے گریز کررہے ہیں اور وہ تدفین کے لیے حکومت کے منتظر ہیں۔

مزید پڑھیں: ایکواڈور: بچے باپ کی لاش کے ساتھ قرنطینہ میں رہنے پر مجبور

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گویاکل کی شاہراہوں اور گلیوں مین کرونا سے مرنے والے افراد کی لاشیں گھروں کے دروازوں پر پڑی ہیں، ورثا نے کسی بھی خطرے کے پیش نظر اپنے پیاروں کو مرنے کے بعد ہاتھ لگانے سے صاف انکار کیا، مریضوں کی لاشیں کئی روز تک گلی میں پڑی رہتی ہیں حتیٰ کہ اُن میں سے بو آنے لگتی ہے۔

شہری انتظامیہ اور فلاحی اداروں کے رضا کار لاشوں کو تین روز بعد اٹھا کر تدفین کے لیے لے جاتے ہیں جن میں سے بیشتر مُردوں کو جلایا جاتا ہے۔

گویاکل کی پولیس و مردہ خانوں کے عہدیداروں نے اب انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپریل کے پہلے ہفتے سے اب تک گلیوں اور گھروں کے باہر پڑی 800 لاشیں اٹھا کر ان کی آخری رسومات ادا کرنے کے بعد انہیں دفنا دیا یا جلایا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں