کیٹو (10 نومبر 2025): جنوبی امریکی ملک ایکواڈور کی جیل میں ہول ناک بغاوت کے نتیجے میں 27 قیدی دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئے، اور 4 کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔
اے ایف پی کے مطابق ایکواڈور کی ایک جیل میں اتوار کو ہونے والے پرتشدد ہنگامے کے نتیجے میں کم از کم 31 قیدی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ ستائیس قیدیوں کی لاشیں دم گھٹنے کی حالت میں برآمد ہوئیں، جب کہ چار افراد کو گولی مار کر قتل کیا گیا۔
ایک سرکاری بیان میں جیل انتظامیہ نے بتایا کہ صوبہ ایل اورو کے شہر مشالا کی جیل میں اتوار کی دوپہر 27 قیدیوں کی لاشیں ایسی حالت میں ملیں کہ انھیں پھانسی لگائی گئی تھی جس سے دم گھٹنے سے ان کی موت ہوئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کی مکمل تحقیقات میں مصروف ہیں، فارنزک ماہرین اموات کی وجوہ اور تفصیلات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کیا امریکی حکومت دوبارہ کھلنے جا رہی ہے؟ سینیٹ میں شٹ ڈاؤن بل پر پیش رفت
اتوار کی صبح مقامی وقت کے مطابق 3 بجے کے قریب مشالا کی جیل میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق جیل کے اندر سے گولیاں چلنے، دھماکوں اور مدد کے لیے چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ایکواڈور کی جیل اتھارٹی (SNAI) نے اپنے بیان میں کہا کہ صبح ہونے والے پرتشدد واقعات میں 33 قیدیوں اور ایک پولیس اہلکار کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔
خصوصی پولیس دستوں نے جیل میں داخل ہو کر صورت حال پر قابو پایا، تحقیقات سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تشدد کا تعلق صدر ڈینیئل نوبوآ کی حکومت کے اس منصوبے سے ہو سکتا ہے جس کے تحت کچھ قیدیوں کو ایک نئی زیادہ محفوظ جیل میں منتقل کیا جانا تھا، جو اسی ماہ ملک کے کسی اور صوبے میں افتتاح کے لیے تیار ہے۔
مشالا کی جیل میں پیش آنے والا یہ واقعہ ایکواڈور کی جیلوں میں بڑھتی ہوئی پرتشدد جھڑپوں کی تازہ مثال ہے۔ حالیہ برسوں میں ایکواڈور کی جیلیں منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے حریف گروہوں کے مراکز بن چکی ہیں، جہاں غیر قانونی منشیاتی تجارت پر قبضے کے لیے گروہوں کے درمیان خونریز جھڑپیں عام ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند سالوں میں 500 سے زائد قیدی مختلف جیلوں میں ہونے والے گروہی جھڑپوں میں مارے جا چکے ہیں۔
ستمبر کے آخر میں اسی جیل میں ہونے والی ایک اور بغاوت میں 13 قیدی اور ایک جیل اہلکار مارے گئے تھے۔


