کراچی (08 اگست 2026): شہر قائد کے علاقے سہراب گوٹھ میں ایدھی سینٹر میں ڈکیتی کا مقدمہ سمن آباد تھانے میں ملازم مظہر عباس کی مدعیت میں درج کر لیا گیا۔
ایف آئی آر میں مدعی نے کہا کہ 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 افراد نے ایدھی سینٹر میں ڈکیتی کی، ہم 65 لاکھ سے زائد رقم نجی بینک سے نکلوا کر پہنچے تھے، کہ پیچھے پیچھے ڈاکو بھی آ گئے اور رقم چھین کر فرار ہو گئے۔
مقدمے کے متن کے مطابق یہ واردات جمعہ کی شام تقریباً 4 بجے پیش آئی۔ تین ملزمان اندر داخل ہوئے اور واردات کی جب کہ ایک ملزم باہر کھڑا رہا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈکیتی میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔
ایدھی ہوم انتظامیہ کے مطابق یہ واردات گزشتہ روز اس وقت ہوئی جب تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے نجی بینک سے رقم لائی گئی، تنخواہوں کا دن تھا ملازمین میں تنخواہیں تقسیم ہونی تھیں۔
کراچی میں ڈاکوؤں نے ایدھی سینٹر کے ملازمین سے 65 لاکھ روپے لوٹ لیے
اطلاع ملنے پر ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر عمران اور پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی تھی، جنھوں نے واردات سے متعلق تفصیلات حاصل کیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ عینی شاہدین کے بیان قلم بند کیے جا رہے ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ملزمان کا سراغ لگانے کا حکم دیا اور کہا کہ ایدھی سینٹر غریبوں اور لاوارثوں کا سہارا ہے، ایسے ادارے میں ڈکیتی ناقابل قبول ہے۔


