The news is by your side.

Advertisement

محسنِ انسانیت عبد الستار ایدھی اب ہم میں نہیں رہے

کراچی: محسن ِ انسانیت و فخرِ پاکستان عبد الستار ایدھی رضائے الہی سے انتقال کر گئے وہ گردے کے عارضے میں مبتلا تھے، ان کی نماز جنازہ آج بعد نمازظہر نیشنل اسٹیڈیم میں ادا کی جائے گی۔

سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کی انتظامیہ نے یہ اندوہناک خبر دی ہے کہ دنیا بھر میں اپنے سماجی کاموں سے جانے پہچانےجانے والے ممتاز سماجی کارکن اور ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی اب دنیا میں نہیں رہے،وہ ذیابیطس اور بلند فشار خون کے مرض میں مبتلا تھے جس کی وجہ سے اُن کے گردے فیل ہو گئے تھے اور وہ ڈائلائسیس کے لیے اسپتال میں داخل تھے۔

6

آج صبح ڈائیلائسس کے بعد انہیں سانس لینے میں دشواری محسوس ہو رہی تھی جس کے بعد انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کر دیا گیا تھا جہاں اُنہیں وینٹی لیٹر کے ذریعے مصنوعی سانس دی جا رہی تھی اُن کے گردوں میں انفیکشن بڑھ گیا تھا۔

تفصیلات جانیے :سانس لینے میں دشواری،عبد الستار ایدھی آئی سی یو منتقل

عبد الستار ایدھی کے صاحبزادے فیصل ایدھی نے انتقال کی خبر کی اطلاع دیتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ مرحوم عبد الستار ایدھی کی نمازہ جنازہ کل بعد از نماز ظہر نیشنل اسٹیڈیم میں ادا کی جائے گی جب کہ تدفین ایدھی ویلیج کے قبرستان واقع سپر ہائی وے روڈ پر کی جا ئے گی۔

متحدہ ہندوستان کے علاقے گجرات (بانٹوا) میں 1928 کو پیدا ہونے والے عبدالستار ایدھی تقسیم ہند کے بعد 1947 میں ہندوستان سے ہجرت کر کے کراچی میں بسنے والے عبد الستار ایدھی نے بچپن سے ہی کڑے وقت کا سامنا کیا،اُن کی والدہ پر فالج کا حملہ ہوا تھا جس سے وہ ذہنی و جسمانی معذروی کا شکار ہو کر بستر سے جا لگی تھیں، جس کے بعد اس ننھے بچے نے کراچی کی سڑکوں پر اپنی ماں کے علاج کی غرض سے در در کی ٹھوکریں کھائیں تا ہم ماں کی نگہداشت کے لیے ایک بھی ادارہ نہ پایا تو سخت مایوسی میں مبتلا ہو گئے اور اکیلے ہی اپنی کا ماں کی نگہداشت میں دن و رات ایک کر دیے۔

13

اسی ابتلاء اور پریشانی کے دور میں انہیں ایک ایسے ادارے کے قیام کا خیال آیا جو بے کسوں اور لاچار مریضوں کی دیکھ بھال کرے،اپنے اسی خواب کی تعبیر کے نوجوان عبد الستار ایدھی نے 1951 ء میں صرف پانچ ہزار روپے سے ایک کلینک کی بنیاد رکھی،یہ کلینک کراچی کے علاقے کھارادر میں کھولا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایسے کئی رفاحی کلینک کا جال پورے ملک میں پھیلا دیا۔

23

دوسری جانب ایدھی فاونڈیشن کی ایمبولینسس بد سے بد ترین حالت میں بھی زخمیوں اور لاشوں کو اُٹھانے سب سے پہلے پہنچ جاتی ہیں،میتوں کے سرد خانے اور غسل و تدفین کا ذمہ بھی اس محسن انسانیت نے اُٹھایا اور تعفن زدہ لاشوں کو اپنے ہاتھوں سے غسل دینا شروع کیا۔

3

وہ مذہب وفرقے، رنگ و نسل اور ادنی و اعلیٰ کی تفریق کے بغیرسب کی خدمت کے لیے ہمہ وقت مگن رہتے، وہ اپنے ادارے کے لیے سڑکوں پر، گلیوں میں در در جا کر چندہ اکھٹا کرتے اور اسے انسانیت کی خدمت میں لگا دیتے اور اپنی ذات پر گھر و اہل و عیال پر سادگی اور میانہ روی اپنائے رکھتے۔

یہی وجہ ہے انسانیت کے لئے بے لوث خدمات پر انہیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا، 1980 میں پاکستانی حکومت نے انہیں نشان امتیاز دیا،1992 میں افواج پاکستان کی جانب سے انہیں شیلڈ آف آنر پیش کی جب کہ 1992 میں ہی حکومت سندھ نے انہیں سوشل ورکر آف سب کونٹی نینٹ کا اعزاز دیا۔ بین الاقوامی سطح پر 1986 میں عبدالستار ایدھی کو فلپائن نے Ramon Magsaysay Award دیا جب کہ1993 میں روٹری انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کی جانب سے انہیں پاؤل ہیرس فیلو دیا گیا، یہی نہیں 1988 میں آرمینیا میں زلزلہ زدگان کے لئے خدمات کے صلے میں انہیں امن انعام برائے یو ایس ایس آر بھی دیا گیا۔

1

ایدھی صاحب کو 2006 میں کراچی کے معتبرو معروف تعلیمی ادارے آئی بی اے کی جانب سے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری بھی دی گئی تھی،یہ اعزازی ٍڈگری ایدھی صاحب کی انسانیت کی خدمت اور رفاحی کاموں کے اعتراف کے طور پر دیے گئے۔

پاکستان میں بیشتر لوگوں کا ماننا ہے کہ عبدالستار ایدھی نوبل امن انعام کے بھی حق دار تھے۔ اس بارے میں کراچی میں ذرائع ابلاغ کے ماہر پروفیسر نثار زبیری نے کچھ برس قبل عبدالستار ایدھی کو نوبل امن انعام دیے جانے کی تحریری سفارش بھی کی تھی اور اس کے لیے باقاعدہ ایک مہم بھی چلائی گئی تھی۔ آج عبد الستار ایدھی اپنے سفر آخرت کی جانب کوچ کر چکے لیکن رہتی دنیا تک اس سادہ منش انسان کی انسانوں سے لگاؤ اور محبت کی داستانیں سنائی جاتی رہیں گی۔

                                                                            بلاشبہ وہ فخرِ پاکستان تھے

عبدالستار ایدھی کا انتقال ، اداکار ،فنکار ،سیاستدان سب ہی سوگوار

عبدالستار ایدھی اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن ان کے چاہنے والے ملک کے کونے کونے میں بستے ہیں ان کے انتقال پر اداکار ،فنکار ،سیاستدان سب ہی سوگوار ہیں۔

مسیحا پاکستان عبدالستار ایدھی کے انتقال کی خبر پورے ملک کی فضا کو سوگوار کردیا، معروف اداکار عمرشریف کا کہنا ہے کہ ایدھی صاحب اپنے لئے کپڑے نہیں سلواتے تھے۔ فلم اسٹار ندیم کا کہنا ہے کہ عبدالستار ایدھی ملک کا سرمایہ تھے۔

بشری انصاری نے کہا کہ ان کے جیسا کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ بہروزسبزواری نے کہا کہ عبدالستار ایدھی پاکستان کی سب سے بڑی سخصیت تھے۔

ایم کیوایم کے رہنما کنور نوید جمیل نے ان کے مغفرت کی دعا کے ساتھ کہا کہ ایدھی صاحب روشنی کی کرن تھے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا کہ عبدالستار ایدھی جیسا دنیا میں کوئی نہیں۔

تحریک انصاف کے رہنما اور سماجی کارکن ابرار الحق نے نے کہا کہ یتیم بچوں کا سہارا ان سے جدا ہوگیا۔

عبدالستار ایدھی کے انتقال پر وزیراعظم نوازشریف کا ایک روزہ سوگ کا اعلان

پیکر انسانیت مسیحا پاکستان عبدالستارایدھی کے انتقال پر وزیراعظم نواز شریف نے ایک روزہ سوگ کا اعلان کے ساتھ عبدالستار ایدھی کو نشان امیتاز دینے کا اعلان کردیا جبکہ صوبائی حکومتوں نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

ملک ایک عظیم شخصیت سے محروم ہوگیا، آرمی چیف

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی مسیحا پاکستان کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ملک ایک عظیم شخصیت سے محروم ہوگیا، وہ انسانیت کا درد رکھنے والی معروف شخصیت تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عبدالستار ایدھی کی وفات پر پوری دنیا سوگوار ہے، پوری دنیا عظیم انسان سے محروم ہوگئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں