site
stats
پاکستان

والد کی صرف آنکھیں‌ بچیں، وہ بھی عطیہ ہوگئیں، فیصل ایدھی

کراچی: فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی عطیہ کردہ آنکھیں دو ضرورت مندوں کو عطیہ کردی گئیں ہیں اوراب وہ دونوں افراد ڈاکٹرعبدالستارایدھی کی آنکھوں سے دنیا دیکھ سکتے ہیں۔

معروف سماجی رہنماء اورانسانیت کے سب سے بڑے مبلغ ڈاکٹرعبدالستارایدھی طویل عرصے سے گردوں کے مرض میں مبتلا تھے اور جمعے اورہفتے کی درمیانی شب چند گھنٹے وینٹی لیٹرپرگزارنے کے بعد اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے تھے، ان کی تدفین گزشتہ روز ریاستی اعزاز کے ساتھ ایدھی ولیج میں کی گئی۔


عبدالستار ایدھی قومی اعزازات کے ساتھ سپرد خاک، ہر آنکھ اشک بار


کراچی کی معروف تجارتی شاہراہ ایم اے جناح روڈ پرواقعہ میمن مسجد میں آج صبح سے عبدالستارایدھی کا سوئم جاری ہے اوراس موقع پر ان کے صاحبزادے فیصل ایدھی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تعزیت کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے والد کا مشن جاری رکھنے کے عزم کا اظہارکیا۔

فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ ایدھی صاحب نے وصیت کی تھی کہ ان کے جسم کے جو بھی اعضا کسی ضروت مند کے کام آسکیں، عطیہ کردیے جائیں، تاہم طویل بیماری نے انہیں انتہائی کمزورکردیا تھا اوران کے جسم میں محض آنکھیں ہی اس قابل بچی تھیں کہ عطیہ کی جاسکتیں، جو کہ کردی گئی ہیں۔

انہوں نےکہا کہ کچھ دیرقبل ان کے کزن اورآنکھوں کے سرجن ڈاکٹر انیس نے انہیں اطلاع دی ہے کہ بصارت سے محروم دو افراد کوانسانیت کے سے بڑے خادم کی آنکھیںعطیہ کی گئی تھیں اب وہ دیکھنے کے قابل ہوگئے ہیں۔

فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ ان افراد کے نام کیا ہیں اوروہ کون ہیں، تاہم وہ ان سے ملاقات ضرور کریں گے۔

فیصل ایدھی کے مطابق ڈاکٹرعبدالستارایدھی نے مرنے سے چند روز قبل وصیت کی تھی کہ ان کا جسم بھی اگر کسی میڈیکل کالج کے طلبہ کے حوالے کردیا جائے جو ان کے جسم پر تجربے کرکے طب کی تعلیم حاصل کریں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔


اور پھر ایدھی ہار گئے


ڈاکٹر عبدالستارایدھی کے صاحبزادے نے اپنے والد کی روح سے اظہارِ شرمندگی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی سخت فیصلہ تھا اورمجھے افسوس ہے کہ میں اس پرعمل کرنے سے قاصرتھا۔

فیصل ایدھی نے کہا کہ عبدالستارایدھی ایک عظیم شخص تھے اور ہمیشہ انہوں طبقاتی تفریق کے خلاف جدوجہد کی اوراس جدوجہد میں مجھے بھی شریک رکھا اوراب یہ میری اورہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ان کے مشن کو لے کر آگے بڑھیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top