The news is by your side.

Advertisement

مسلمانوں کا تعلیمی نظام: تاریخی جائزہ

موجودہ دور میں مسلمانوں کے تعلیم کے دو دھارے (Stream) ہیں۔ ایک کو قدیم یا دینی کہا جاتا ہے اور دوسرے کو جدید یا عصری۔ یہ دونوں متوازی چلتے ہیں اور جس طرح دریا کے دونوں کنارے طویل ترین فاصلہ طے کرنے کے باوجود کہیں نہیں ملتے، اسی طرح ان دونوں دھاروں کے درمیان بھی کہیں یکجائی نہیں ہوتی۔

والدین کو ابتدا ہی میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچّے کو کسی دینی مکتب یا مدرسے کے حوالے کریں یا کسی اسکول میں اس کا داخلہ کرائیں۔ جدید تعلیم حاصل کرنے والا بچّہ ڈاکٹر، انجینیر، آرکیٹکٹ یا کسی پروفیشن کا ماہر تو بن جاتا ہے، لیکن اس کی دینی تعلیم واجبی سے بھی کم ہوپاتی ہے۔ دوسری طرف مدرسے سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والا عالم و فاضل ہو کر مسجد کی امامت اور مدرسے کی مسند صدارت سنبھالنے کے قابل تو ہو جاتا ہے، لیکن تیز رفتار ترقیات سے معمور دنیا میں خود کو اجنبی محسوس کرتا ہے، چنانچہ احساسِ کم تری کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس صورتِ حال میں کئی سوالات ابھرتے ہیں۔ کیا تعلیم کی یہ تقسیم دینی اعتبار سے درست ہے؟ کیا ایک صالح، کار آمد اور انسانیت کے لیے مفید معاشرہ کی تعمیر کے لیے اس تقسیم کو نہ صرف گوارا بلکہ باقی رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے؟ اور سب سے بڑا سوال یہ کہ کیا مسلمانوں نے اپنے دورِ عروج میں اس تقسیم کو روا رکھا تھا اور کیا انھوں نے مسلمان بچّوں اور بچّیوں کے لیے دینی تعلیم کا الگ انتظام کیا تھا؟ اسلام علم کو ’دینی‘ اور ’دنیاوی‘ خانوں میں باٹنے کا قائل نہیں ہے۔

بنیادی دینی تعلیم، جس کے ذریعہ انسان دین کے تقاضوں پر عمل کر سکے، اسے اس نے ہر مسلمان کے لیے لازم قرار دیا ہے۔ اس کے بعد علم و معرفت کے تمام دروازے ہر شخص کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی طلب، مواقع اور محنت کے مطابق ان سے فیض حاصل کر سکتا ہے۔

تعلیم گاہ کی خشتِ اوّل مسجدِ نبوی میں بنے ہوئے چبوترے پر رکھی گئی تھی، جسے ہم ’صفہ‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ وہاں بھی علم کی جامعیت کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ اصحابِ صفہ نہ صرف قرآن حفظ کرتے اور اللہ کے رسولﷺ کے ارشادات کو سن کر اپنے سینوں میں محفوظ کرتے تھے، بلکہ لکھنا پڑھنا بھی سیکھتے تھے اور فنونِ حرب کی بھی مشق کرتے تھے۔ غزوۂ بدر کے موقع پر جن سردارانِ مکّہ کو گرفتار کیا گیا تھا ان کا فدیہ یہ قرار دیا گیا تھا کہ ہر شخص دس بچّوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے۔ ظاہر ہے کہ ان اسیرانِ قریش نے دینی تعلیم نہ دی ہوگی۔

عہدِ اموی میں جب اسلامی مملکت کی سرحدیں وسیع ہوئیں اور دیگر قوموں سے ربط و تعامل بڑھا تو اس زمانے کے مروّجہ علوم کو عربی زبان میں منتقل کرنے کی تحریک شرع ہوئی۔ یزید بن ابی سفیان کی وفات کے بعد رواج دیے گئے دستور کے مطابق ان کے بیٹے خالد کو زمامِ اقتدار سنبھالنی تھی، لیکن اس کا علمی شغف اتنا زیادہ تھا کہ اس نے خلافت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ خالد بن یزید نے خود بھی بہت سی کتابوں کا ترجمہ کیا اور دوسروں سے بھی کروایا۔

عالمِ اسلام میں سیاسی آویزشیں جاری رہیں اور میدانِ سیاست میں کشت و خوں کا بازار گرم رہا، یہاں تک کہ خلافتِ بنو امیہ کا خاتمہ ہوگیا اور خلافتِ بنو عباس قائم ہو گئی، لیکن علمی تحریک برابر زور پکڑتی گئی۔ عباسی حکم رانوں منصور اور ہارون رشید نے اس کی سرپرستی کی، یہاں تک کہ مامون الرّشید نے اسے بامِ عروج پر پہنچا دیا۔ اس کے عہد میں قائم ’بیتُ الحکمۃ‘میں اس دور کے تمام مروّجہ علوم کی کتابوں کا دیگر زبانوں سے عربی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔

اس دور میں خلافتِ اسلامی کے حدود میں مدارس کا قیام شروع ہوا تو ان میں علوم کی تقسیم کو روا نہ رکھا گیا۔ ان میں داخلہ لینے والے طلبہ تمام علوم حاصل کرتے تھے اور بعد میں ذوق کے مطابق کسی فن میں اختصاص کرتے تھے۔

تاریخِ اسلامی میں دولتِ سلجوقیہ کے وزیرِ اعظم نظام الملک طوسی کے ذریعہ قائم ہونے والے مدرسے کو، جو اس کے نام سے منسوب ہو کر ’مدرسۂ نظامیہ‘ کہلایا، غیر معمولی شہرت حاصل ہے۔ امام غزالیؒ اور ان کے استاد امام الحرمین جوینی، اسی طرح ابن الخطیب، تبریزی شارح حماسہ، ابو الحسن فصیحی شاگرد امام عبد القادر جیلانی اور سعدی شیرازی نے اس مدرسے میں تعلیم حاصل کی تھی یا تدریس کے فرائض انجام دیے تھے۔

نظامُ الملک نے اپنے حدودِ مملکت کے دوسرے حصوں میں بھی مدارس کا جال بچھا دیا تھا۔ علامہ شبلیؒ نے اپنے مشہور مقالہ ’مسلمانوں کی گزشتہ تعلیم‘ میں ایسے مدارس کی ایک طویل فہرست نقل کی ہے جو مسلم حکم رانوں کے دور میں ان کی حدودِ مملکت میں قائم ہوئے۔ نیسا پور، بغداد، ہرات، موصل، اصفہان، ماوراء النہر، بلخ، مروور خوارزم وغیرہ میں بڑے بڑے مدارس قائم تھے۔ علاّمہ شبلی نے انھیں موجودہ دور کی یونی ورسٹیوں سے تشبیہ دی ہے۔ انھوں نے مصر میں نور الدین زنگی اور سلطان صلا ح الدین ایوبی کے زمانوں میں قائم ہونے والے مدارس کی بھی تفصیل پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ ایران، ترکی اور اندلس کے مدارس کا تذکرہ بھی تفصیل سے کیا ہے۔

ان مدارس میں دینی اور دنیاوی ہر طرح کے علم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ علمائے متقدمین میں بعض ایسے حضرات بھی گزرے ہیں جو کسی دینی علم میں بھی مہارت رکھتے تھے اور کسی دنیاوی علم میں بھی۔ مثال کے طور پر الشیخ الرئیس ابو علی ابن سینا کی شہرت عظیم طبیب کی حیثیت سے ہے۔ اس کی کتاب ’القانون فی الطب‘ ایک ہزار سال سے طبی نصاب کی اہم ترین کتاب ہے۔ یورپ کے میڈیکل کالج میں بھی تقریباً پانچ سو سال تک داخل نصاب رہی ہے۔ اسی کے ساتھ فلسفہ میں بھی انھیں درک حاصل تھا۔ تیسری طرف علمِ تفسیر میں بھی انھوں نے کئی کتابیں تصنیف کیں ہیں۔

علاّمہ علاءُ الدّین ابنِ نفیس قرشی دمشقی کا شمار بھی مشہور اطباء میں ہوتا ہے۔ نور الدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی کے قائم کر دہ اسپتالوں میں وہ افسرُ الاطباء رہے۔ اس کے علاوہ وہ عظیم فقیہ بھی تھے۔ قاہرہ کے مدسۂ مسروریہ میں فقہ شافعی کا درس دیتے تھے۔

اس ضمن میں اندلس کے علامہ ابن رشد قرطبی کا تذکرہ دل چسپی سے خالی نہ ہوگا۔ وہ بیک وقت طبیب بھی تھے، فلسفی بھی اور فقیہ بھی۔ فقہ میں ان کی کتاب بدایۃ المجتھد، فلسفہ میں تھافت التھافت اور طب میں کتاب الکلیات، یہ تینوں اب تک مرجعِ خلائق ہیں اور مشرق و مغرب میں ان سے بھر پور استفادہ کیا جا رہا ہے۔

ہندوستان میں بھی مدارس کے قیام کی ایک زرّیں تاریخ ہے۔ عہدِ سلطنت میں اور بعد میں مغلیہ عہد میں ملک کے ہر حصّہ میں مدارس قائم کیے گئے۔ ان میں تمام مروّجہ علوم پڑھائے جاتے تھے۔ ان مدارس کو حکومت کی سرپرستی حاصل رہتی تھی اور ان کا پورا خرچ سرکاری طور پر اٹھایا جاتا تھا۔

ہندوستان سے جب مسلمانوں کی حکم رانی ختم ہوئی اور اس پر انگریزوں کا تسلط قائم ہوا تو ان مدارس پر افتاد پڑی۔ سرکاری امداد سے محروم ہوجانے کی وجہ سے وہ بند ہو گئے۔ انگریزوں نے اپنا نظام تعلیم جاری کیا۔

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی کے مضمون سے اقتباسات)

Comments

یہ بھی پڑھیں