The news is by your side.

Advertisement

محکمہ تعلیم ہے یا ڈاکو! سندھ ہائی کورٹ کے ریمارکس

کراچی : ‘آپ نے نہاری والے کو بھی سرکاری اسکول دے دیا تھا’ اسکول کی اراضی سرکاری یا نجی ہونے کے تنازعے پر عدالت نے محکمہ تعلیم کے وکیل کو جھاڑ پلادی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں بلدیہ ٹاؤن سعید آباد میں اسکول اراضی کے سرکاری یا نجی ہونے کے تنازعے پر پلاٹ مالک کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران جسٹس سید حسن اظہر رضوی کا سرکاری وکیل سے مکالمہ ہوا، جس میں انہوں نے اسکولوں کی حالت زار کے حوالے سے اہم ریمارکس دئیے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ڈالمیا پر سرکاری اسکول بلڈر کو بیچ دیا تھام حتیٰ کہ محکمہ تعلیم نے تو نہاری والے کو بھی سرکاری اسکول دے دیا تھا۔

سرکاری وکیل سے مکالمے کے دوران ہائی کورٹ کے جج نے کہا کہ آپ کے افسران کے یہ اقدام ڈکیتوں کے مترادف ہیں کیوں کہ یہاں سرکاری اسکولوں کے پلاٹس بلڈرز کو بیچے جارہے ہیں۔

عدالت میں دائر درخواست کا متن

اسکول کی زمین سرکاری یا نجی ہونے کے تنازعے پر پلاٹ مالک اکبر حسین نے درخواست دائر کی تھی کہ 1970 میں پرائیورٹ اسکول بنایا جو نیشنلائزڈ ہونے پر سرکاری تحویل میں لے لیا گیا تھا۔

درخواست گزار نے بتایا کہ 1980 میں عمارت خستہ حال ہوئی تو واپس میری ملکیت میں آگئی اور تمام تر منظوری کے بعد جائیداد مجھے واپس دے دی گئی اور اب تعمیرات شروع کیں تو محکمہ تعلیم نے پلاٹ سرکاری ہونے کا دعویٰ کردیا۔

درخواست گزار اکبر حسین عدالت سے گزارش کی کہ قرار دیا جائے کہ اسکول اراضی سرکاری نہیں نجی ملکیت ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں