کسی بھی معاشرے کی مضبوط بنیاد رکھنے میں مرد اور عورت کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ ایک معاشرہ تشکیل دینے کے بعد اس کے صحیح خطوط پر پھولنے پھلنے اور بتدریج ترقی میں مرد اور عورت یکساں کردار ادا کرتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات بھی اسی نقطۂ نظر کو فروغ دیتی ہیں۔ بالخصوص کوئی معاشرہ اسلام کی نظر میں اس وقت تک فلاحی اور ترقی یافتہ معاشرہ نہیں بن سکتا جب تک عورت کو وہ تمام حقوق حاصل نہ ہوں جو انھیں اسلام نے دیے ہیں۔ حقوقِ نسواں کے لیے یوں تو ہر سطح پر آواز اٹھائی جاتی رہی ہے، مگر جدید دور میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور اس حوالے سے آگاہی دینے کے لیے ہر سال آٹھ مارچ کو عالمی یومِ خواتین منایا جاتا ہے۔
عورتوں کا عالمی دن اب اس ‘نصف جہاں’ کی معاشرتی اور سماجی اہمیت اور جدوجہد کا ایک نقش بن چکا ہے۔ اس موقع پر دنیا بھر میں مذاکرے منعقد ہوتے ہیں جن میں عورتوں کا گھریلو زندگی میں کردار، ان کی سماجی اور معاشی جدوجہد کو سراہا بھی جاتا ہے اور گھر اور گھر سے باہر عورتوں پر مظالم، جبر اور کسی بھی سطح پر ان سے امتیازی سلوک کو بھی زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔ اسلام وہ مذہب ہے جس نے عورت کو اپنے دامن عافیت میں جگہ دی۔ اس کی ناموس کی قدر و قیمت کو اجاگر کیا اور اس کی عزت و توقیر کی اہمیت کو واضح کردیا۔ اسلام سے پہلے جن معاشروں میں عورت محض ایک جنس اور باندی کے طور پر قسم قسم کے جبر، ظلم و ستم اور امتیاز کا شکار تھی، اسے قرآنی احکامات اور رسول اللہ کی تعلیمات نے مٹا کر ایک معاشرے کی ترقی اور استحکام کی مضبوط اور ٹھوس بنیاد فراہم کی۔ اسلام نے عورت کے عزت و احترام کو ایک مرد کے لیے تکمیلِ ایمان اور شرطِ پاکیزگی بتایا ہے۔
عالمی یومِ خواتین پر اگر ہم عورتوں کی دینی اور دنیوی تعلیم کو موضوع بنائیں تو اسلام وہ دین ہے جو مرد کی طرح لڑکیوں کے لیے بھی علم حاصل کرنے کو ایک فریضہ سمجھتا ہے اور اس کی تلقین کرتا ہے۔ اسلام نے معاشرے میں اصلاح و کردار سازی، خاندانی نظام کی بقا و استحکام کے لیے خواتین بالخصوص لڑکیوں کے کردار کو تسلیم کیا ہے اور ہر جائز کام کے لیے اسے آزاد بتایا ہے۔
ایک ماں اپنی اولاد کی پہلی معلّمہ ہوتی ہے۔ اس طرح لڑکیوں کی تعلیم و تربیت یقیناً اہمیت اختیار کرجاتی ہے۔ یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ قوموں اور نسلوں کی تعمیر و ترقی کے لیے ناگزیر ہے کہ ایک عورت تعلیم یافتہ ہو۔ عہدِ نبویﷺ میں خواتین کی تعلیم و تربیت کو کس قدر اہمیت دی گئی، اس ضمن میں اٹھائے گئے اقدامات، تعلیم کے مقاصد، اسالیب، اور تعلیمی مراکز کا قیام یہ سب اہم پہلو ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے خود کو معلّم قرار دیا ہے، آپﷺ نے فرمایا:’’إنما بُعِثتُ مُعَلِّمًا "میں معلّم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔” (بحوالہ سنن ابنِ ماجہ)
آپﷺ کے دور میں نجی مجالس، مساجد اور منبر پر، عوامی اجتماعات اور سفر و حضر میں بھی زندگی اور معاشرت کی تعلیم کا جو سلسلہ جاری رہا، اس سے مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی بھرپور استفادہ کیا۔ گھر کے کام بھی انجام دیے اور ضرورت پڑی تو تجارت سے لے کر میدانِ جنگ تک بڑے اعتماد سے اپنا کردار ادا کر کے اسلامی معاشرے کی تکمیل کی۔ دنیا کے دیگر مذاہب اور تہذیبوں کے برعکس اسلام نے اپنے آغاز سے ہی بلا تفریق علم کے حصول کو سب کے لیے لازم قرار دیا۔ پیغمبرِ اسلام ﷺ کا فرمان ہے: "علم کی تلاش ہر مسلمان پر فرض ہے۔” ( سنن ابن ماجہ) اس فرمان کی روشنی میں دیکھا جائے تو اسلام میں تعلیم نسواں پر کبھی دو رائے نہیں رہی۔ یہ پختہ حکم ہے، کیوں کہ اسلام سمجھتا ہے کہ اگر عورت کو جاہل اور ان پڑھ رکھا گیا تو یہ معاشرے کی پسماندگی اور ابتری کا باعث بنے گا۔ اس کے برعکس تعلیم یافتہ عورت صحیح اور غلط، جائز اور ناجائز کو پہچانتی ہے اور اگر اپنی زندگی اور سماج میں مسائل سے خوش اسلوبی سے نمٹ سکتی ہے اور یہی عورت اپنی اولاد کی تربیت کرکے ایک صالح معاشرہ کی تعمیر میں مدد کرسکتی ہے۔ یعنی اسلام کا یہ واضح تصور ہے کہ خواتین کی تعلیم ان کی انفرادی ترقی ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
متعدد احادیث اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ازواج مطہراتؓ سے اہم معاملات میں مشورہ لیا اور ان کو اہمیت دے کر ثابت کیا کہ فہم و فراست اور اپنے دور کے رواج کے مطابق تعلیم کے بعد عورتیں بھی کنبے اور معاشرے کے لیے مفید اور راہ نمائی کے قابل ہوسکتی ہیں۔ مزید آگے بڑھیں تو بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کی فضیلت کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ آپ ﷺ نے اس کی ترغیب دیتے ہوئے اس عمل کو جنت میں داخلے کا سبب قرار دیا۔ ایک حدیث کا ترجمہ یوں کیا جاتا ہے کہ جس نے تین بیٹیوں کی پرورش کی، ان کی تعلیم و تربیت کی اور ان سے حسن سلوک کیا، اس کے لیے جنت ہے۔ ( بحوالہ سنن ابی داؤد و دیگر) اسی طرح ایک حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بیٹے کی تعلیم و تربیت کی طرح بیٹی کا بھی حق ہے۔ اسی طرح ایک جگہ کنیزوں اور خادمات کی تعلیم کے بارے میں بھی رسول اللہ ﷺ نے اجر و ثواب کی نوید سنائی ہے۔
خواتین کی تعلیم اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہ زندگی کے سفر میں مرد کی مشیر ہوتی ہیں، اور مشیر کے لیے علم اور بصیرت کا ہونا ضروری ہے۔ عورت کا اثر گھر کے ماحول اور بچوں پر زیادہ پڑتا ہے، اس لیے اگر وہ تعلیم یافتہ اور دانا ہوگی تو اپنے فرائض اور حقوق سے بخوبی آگاہ بھی ہو گی۔
اسلام سے قبل اور بعد میں بھی معاشروں میں اگر عورتوں کو علم کی روشنی سے محروم رکھا گیا ہے تو اس کی وجہ استحصالی اور بیمار ذہنیت ہے اور وہ مرد بھی اس میں شامل ہیں جو انھیں مذہبی، سماجی، ازدواجی اور قانونی حقوق سے بے خبر رکھنا چاہتے ہیں۔ اسلام ان کی مذمت کرتا ہے اور ناانصافی قرار دیتا ہے۔
علمائے کرام لکھتے ہیں کہ بعثت نبوی ﷺ کے بنیادی مقاصد میں سے ایک اہم مقصد تعلیم ہے۔ علم کی اہمیت، فضیلت و ترغیب سے متعلق احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ منقول ہے جو مرد و زن سب کے لیے یکساں ہیں۔ البتہ مردوں اور عورتوں کے فرائض اور دائرہ کار کے مطابق اس میں تنوع اور اختلاف ضرور معاشروں میں پایا جاتا ہے، مگر کسی بھی صورت میں عورت کو اس کے تعلیم کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ احادیث ِنبویﷺ کی روشنی میں تعلیم نسواں کی اہمیت و افادیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ بطور مسلمان ہم پر فرض اور ہمارا طرّۂ امتیاز ہے کہ ہم اپنی عورتوں کو دینی اور دنیوی تعلیم دیں اور ان کی اچھی تربیت کریں۔ نبی کریم ﷺ کے فرامین اور عملی اقدامات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسلام نے خواتین کی تعلیم کو معاشرے کی ترقی اور فلاح میں بنیادی حیثیت دی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


