اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا زینہ تعلیم ہے، اور دور حاضر سے ہم آہنگ تعلیم ہی کسی بھی قوم کو بام عروج پر پہنچاتی ہے۔ اور اس سے انحراف ترقی معکوس کا راستہ دکھاتی ہے۔ اور ہم تو وہ قوم ہیں کہ جس کا آغاز ہی ’’اقرا‘‘ سے ہوا، لیکن اس کے باوجود ہمارے نوجوان علامہ اقبال کی خواہش کے مطابق ستاروں پر کمند نہیں ڈال پا رہے۔
پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں اور 64 فیصد نوجوان آبادی کے ساتھ سب سے بڑا ملک ہے۔ یعنی مستقبل کے معماران وطن کے لحاظ سے ہم خود کفیل ہیں، لیکن اس کے برعکس تعلیمی میدان میں ہمارا ملک بہت پیچھے ہے۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان خواندگی کے لحاظ سے دنیا میں 113 ویں نمبر پر آتا ہے۔
ایسا نہیں کہ ملک میں تعلیمی اداروں کی کمی ہو۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان میں 2 لاکھ 90 ہزار 113 تعلیمی ادارے ہیں۔ ان میں 2 لاکھ 42 ہزار اسکول، 36 ہزار 331 دینی مدارس، 11 ہزار 568 کالجز اور 214 جامعات شامل ہیں۔ آئین پاکستان بھی ریاست کو پانچ سے 16 سال تک کی عمر کے بچوں کو مفت، اور لازمی تعلیم کی فراہمی کا پابند کرتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود، 2 کروڑ 66 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ اور پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔
سرکاری سطح پر ملک میں خواندگی کی شرح ہمیشہ 60 فیصد بتائی جاتی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ خواندہ افراد میں ان افراد کو بھی شمار کیا جاتا ہے، جو صرف اپنا نام لکھنا اور پڑھنا جانتے ہیں۔ جب شعبہ تعلیم میں اکثر وزیر وہ لگتے رہے ہوں، جو صرف اپنا نام لکھنا پڑھنا جانتے تھے، تو پھر ہمارے ہاں خواندگی کا معیار یہ نہ ہو، تو پھر کیا ہو۔
تعلیم پر بات کرنے سے پہلے ہم تعلیم کا اصل مطلب اور مقصد سمجھ لیں۔ تعلیم تعلیم عربی زبان علم سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں، جاننا، پہچاننا، معلومات رکھنا۔ اگر تعلیم کے لیے انگریزی زبان میں استعمال کیا جانے والا لفظ ایجوکیشن لیں تو یہ لاطینی زبان سے ماخوذ ہے اور اس کا مفہوم ہے نشوونما کرنا۔ یوں تعلیم کا اصل مطلب بنتا ہے ایک ایسا عمل جس سے کسی بھی فرد کی مخفی صلاحیتوں کو کھوجا جائے اور پھر ان صلاحیتوں کی نشوونما کی جائے۔ لیکن کیا ہمارے تعلیمی ادارے یہ ذمہ داری ادا کر رہے ہیں؟
پاکستان کے نظام تعلیم کی زبوں حالی کی وجوہات پر نظر دوڑائیں، تو حکومتوں کی عدم توجہی کے ساتھ ساتھ ملک میں طبقاتی تفریق، مہنگی تعلیم، ہنرمند تعلیم کی کمی، یکساں وسائل اور نصاب تعلیم کی عدم دستیابی کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کیلیے کیریئر کونسلنگ کے رجحان کا نہ ہونا، اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کا فقدان جیسے عوامل سامنے آتے ہیں۔
یہاں حکومت کسی کی بھی رہی ہو، ما سوائے سیاسی نعروں اور بیانات کے تعلیم کبھی بھی کسی کی اولین ترجیح نہیں رہی۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت تو ہر سال بجٹ میں تعلیم کے شعبہ کے لیے رکھی جانے والی رقم ہے، جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں۔ حکومتی اللوں تللوں کے لیے قومی خزانوں کے منہ کھلے رہتے ہیں، لیکن قوم کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی بات ہو تو تعلیمی بجٹ پر جتنا زیادہ کٹ لگ سکتا ہو وہ لگاتے ہیں۔ اگر تعلیمی بجٹ بڑھایا بھی جاتا ہے تو اس کا استعمال فروغ تعلیم یا طلبہ کی اسکلز بڑھانے اور تعلیمی سہولتوں کی فراہمی پر لگانے کے بجائے اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافے پر ہی خرچ ہوتا ہے۔ فنڈز کی عدم دستیابی اور دستیاب مالی وسائل میں بھی مبینہ کرپشن کے باعث ہزاروں سرکاری اسکول زبوں حالی کا شکار ہیں۔ یہ اسکولز واش رومز، چھت، چار دیواری جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ اندرونی علاقوں میں تو متعدد اسکولوں کا با اثر افراد اوطاقوں اور باڑوں میں تبدیل ہونا اور گھوسٹ اساتذہ جیسے حقائق کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ مشرف دور میں جدید تعلیم کے فروغ کے لیے ادارہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن قائم کیا گیا۔ مگر وہ دور حکومت ختم ہوتے ہی اس ادارے کی حالت بھی یتیم جیسی ہو گئی اور اختیارات کم ہونے کے ساتھ ہر گزرتے سال کے ساتھ جیسے جیسے مہنگائی کے پاؤں پھیلتے گئے، اس کا بجٹ بھی سکڑتا گیا۔
یہ وہ وجوہات ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری تعلیمی اداروں سے عوام کا اعتماد اٹھتا گیا اور حالات اس نہج پر پہنچے کہ مسلسل گرتے معیار تعلیم کی وجہ سے اس میں بھی نجی شعبہ وارد ہوا اور پھر اس کے بعد اس نظام نے ایسا فروغ پایا کہ آج پاکستان میں سرکاری نظام تعلیم سسک رہا اور نجی شعبہ تعلیم پنپ رہا ہے۔ لیکن اگر بات یہیں تک رہتی، تب بھی تعلیم کا یہ حال نہ ہوتا جو آج ہوا ہے، بلکہ جس طرح ہمارا معاشرہ دو طبقات میں تقسیم ہے، اسی طرح نجی تعلیمی نظام بھی دو واضح طبقات میں تقسیم ہو چکا ہے۔ ایک متوسط اور دوسرا ایلیٹ کلاس کے لیے۔ ایک وہ نظام جہاں معیار تعلیم یہ کہ اساتذہ مکمل طور پر انگلش سے واقف نہیں اور دوسرے کا معیار یہ کہ وہاں قومی زبان اردو میں بات کرنا ہی توہین کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ ایک نظام مستقبل کے کلرک یا ہاتھوں میں ڈگریاں لے کر پھرتے بے روزگار جب کہ دوسرا سی ایس ایس افسران کی کھیپ پیدا کرتا ہے۔ لیکن ان تمام تر تفاوت کے باوجود نجی تعلیمی شعبہ منافع بخش انڈسٹری بن چکا ہے اور ان میں اکثریت بھاری فیسوں کے عوض صرف ڈگریاں بانٹنے کی فیکٹریاں بن گئے ہیں۔ ہمارے تعلیمی ادارے تو کمسن طلبہ پر بھاری بستوں کا بوجھ لاد کر سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی ذمے داری پوری کر رہے ہیں۔ جب کہ اسپین میں ہونے والی ایک تحقیق بتاتی ہے کہ یہ طرز عمل مستقبل کے معمار نہیں بلکہ مریض پیدا کرتا ہے۔ بچوں کے حوالے سے کام کرنے والی ایک عالمی تنظیم کے مطابق بھی کسی بھی بچے کے اسکول بیگ کا وزن اس کے جسمانی وزن کا 15 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
دنیا بھر میں ابتدائی ذریعہ تعلیم مادری زبان میں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں ابتدائی کلاسوں میں ہی طلبہ پر انگریزی زبان مسلط کر کے ان پر تعلیم کو بوجھ بنا دیا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں نصاب تعلیم دور جدید میں ہونے والی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ طلبہ کی صلاحیتوں اور فکری نشوونما کو فروغ دیتا، ان کی تخلیقی سوچ اور مسائل کے حل کی مہارت دیتا ہے۔ جب کہ ہمارے ہاں بچوں کو علم وہنر سے آگہی دینے کے بجائے انہیں رٹو طوطے بنایا جاتا ہے۔ کمال تو یہ ہے کہ وہ مضامین جن کو عملی طور پر سکھانا چاہیے، جیسا کہ سائنس اور معاشرتی علوم، ہم ان کو بھی رٹوا کر مستقبل کے سائنسدان پیدا کرنے کا لاحاصل سعی کرتے ہیں۔
صرف یہی نہیں بلکہ ہمارے ملک میں تو بچے کو اس کے ذہنی رجحان کے مطابق تعلیم دینے کی روایت بھی موجود نہیں۔ تعلیم کے حصول کو صرف نمبروں کی دوڑ اور اعلیٰ گریڈز کے حصول سے نتھی کر دیا گیا ہے۔ بالخصوص والدین اپنی خواہشات کو فوقیت دیتے ہوئے نہ صرف اپنی پسند کے شعبے تعلیم حاصل کرنے اور ساتھ ہی اعلیٰ گریڈز حاصل کرنے کا دباؤ ڈالتے ہیں۔ توقعات کا بوجھ انہیں طالبعلم سے زیادہ روبوٹ بنا دیتا ہے اور اکثریت پھر تعلیم کو بوجھ سمجھتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہماری غالب اکثریت تعلیم کو علم حاصل کرنے کے بجائے صرف ڈگری اور نوکری کے حصول کا ذریعہ سمجھتی ہے۔
قیام پاکستان سے اب تک 8 تعلیمی پالیسیاں آئیں۔ لیکن ہر حکومت روایت کے مطابق سابق حکمرانوں کی پالیسی ردی کی ٹوکری میں ڈالتی اور اپنی نئی پالیسی سامنے لاتی رہی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ہمارا نصاب تعلیم دیگر ترقی یافتہ ممالک سے کہیں پیچھے اور ایک چوں چوں کا مربہ بن چکا ہے۔ اس نصاب کو ہم دور جدید سے ہم آہنگ کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی مکمل نظریاتی۔ ہمارا نصاب مکمل مذہب کا لبادہ اوڑھ سکا اور نہ ہی لبرل ڈھانچے میں ڈھل سکا۔ یکساں نظام تعلیم وہ خواب ہے، جس کی تعبیر آج تک قوم نہیں پا سکی۔ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ ہیں، جو اس کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں، اور یکساں نصاب نافذ ہونے کی صورت میں انہیں طبقاتی تفریق اور اپنی برتری ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ اور تعلیم کو بھی سیاست زدہ کر دیا گیا ہے۔ اگر کوشش کی بھی جاتی ہے تو اب 18 ویں ترمیم کے بعد شعبہ تعلیم صوبائی اختیار میں آنے کے بعد وفاقی یکساں تعلیمی پالیسی کا نفاذ مشکل تر ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواندگی میں ہمارا اقوام عالم سے مقابلہ تو دور، ہم تو اس خطے کے ممالک سے بھی پیچھے ہیں۔ حال تو یہ ہو چکا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا انقلاب آنے کے بعد اے آئی اور چیٹ جی پی ٹی سب کی دسترس میں آ گئے، مگر آگہی نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ اور اساتذہ کی اکثریت اس کے مفید استعمال سے بے خبر ہے۔
ماہرین تعلیم، پاکستان کے رائج تعلیمی نظام کو ہی ملک کی ترقی میں رکاوٹ سمجھتے ہیں، اور ان کی متفقہ رائے ہے کہ، نوجوان نسل کو تعلیم یافتہ اور معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لیے اس نظام میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس کے لیے تعلیم کو قومی ترجیح بناتے ہوئے نظام تعلیم کو ڈی سینٹرلائزڈ کرنا ہوگا۔ اور یکساں نصاب تعلیم کے ساتھ ایسی شفاف تعلیمی پالیسی بنانے کے ساتھ اپنانا بھی ہوگی، جو صرف حکومتوں کی خوشنودی کے بجائے، قومی سطح پر تسلیم شدہ ہو۔ تعلیمی بجٹ میں نمایاں اضافہ، ٹیکنالوجی کے استعمال، ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دینے کے ساتھ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کا تسلسل سے اہتمام کرنے کا انتظام بھی کرنا ہوگا۔
تعلیم کے چار بنیادی اساس ہیں استاد، والدین، تعلیمی ادارہ اور طالبعلم۔ اگر اس میں ایک بھی اپنی ذمہ داری سے روگردانی کرے تو تعلیم کی عمارت کبھی شکوہ اور بلندی حاصل نہیں کر سکتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اساتذہ، والدین اور تعلیمی ادارے بھی مل کراپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کریں تاکہ ہمارے نوجوان معاشرے کا مفید شہری بنیں اور ستاروں پر کمند ڈالنے کے اقبال کے خواب کو تعبیر دے سکیں۔
ریحان خان کو کوچہٌ صحافت میں 25 سال ہوچکے ہیں اور ا ن دنوں اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں۔ملکی سیاست، معاشرتی مسائل اور اسپورٹس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ قارئین اپنی رائے اور تجاویز کے لیے ای میل [email protected] پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔


