The news is by your side.

Advertisement

چترال پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شہری مشکل میں پڑ گئے

چترال: موسمیاتی تبدیلی کے چترال پر اثرات کی وجہ سے شہری مشکل میں پڑ گئے ہیں، دریائے چترال پر پانی کا بہاؤ اتنا بڑھ گیا ہے کہ کنارے آباد مکین مسلسل پریشانی میں مبتلا رہنے لگے ہیں، کچھ مکین نقل مکانی بھی کر رہے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان میں بھی دکھائی دے رہے ہیں، پاکستان کے میدانی علاقوں میں شدید گرمی پڑ رہی ہے، جس کی وجہ سے پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریاؤں کی سطح بلند ہونے لگی ہے۔

دریائے چترال میں پانی کا بہاؤ بڑھنے سے اپر چترال کے گاؤں ریشن کے مقام پر کٹائی کا عمل مکینوں کے لیے ایک عذاب کی صورت اختیار کر گیا ہے، جس کی وجہ سے حال ہی میں 5 گھر متاثر ہوئے ہیں، اور مقامی افراد کے مطابق کئی کنال زمین دریا بُرد ہوچکی ہے، کٹائی کی وجہ سے مین شاہراہ کو بھی نقصان پہنچنے سے مسافر اور سیاح وہاں پھنس گئے ہیں، واضح رہے کہ شندور میں واقع دنیا کی بلند ترین پولو گراؤنڈ تک جانے کے لیے بھی یہی راستہ استعمال ہوتا ہے۔

دریا کے کٹاؤ کے باعث متاثر گھر

اپر چترال انتظامیہ کے مطابق دریا میں پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے کئی ایکڑ زمین کو نقصان پہنچا ہے، اور دریا میں پانی کی سطح میں اضافے کی وجہ سے کنارے پر آباد گھروں کے مکینوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

بجٹ 22-2021: تیزی سے بڑھتے ماحولیاتی خطرات اور پاکستان کی دھیمی مگر ہوشیار چال

دریا کی کٹائی سے متاثرہ ریشن کے رہائشی محمد اقبال کا کہنا ہے کہ گزشتہ 3 برسوں سے یہاں پر یہ آفت آ رہی ہے، پچھلے برس بھی دریا کی کٹائی کی وجہ سے 2 گھر دریا بُرد ہو گئے تھے اور ابھی 11 گھر متاثر ہوئے ہیں۔

اقبال کا کہنا ہے کہ حکومت نے گاؤں سے دریا کا رخ موڑنے کے لیے 8 کروڑ روپے منظور کیے تھے، لیکن ابھی تک اس پر کوئی کام نہیں ہوا، انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جو گھر متاثر ہوئے ہیں ان کی بحالی اور دریا کی کٹائی روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، تاکہ علاقے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

ضلعی انتظامیہ نے گاؤں کو محفوظ بنانے کے لیے دریا کے کنارے ایک دیوار تعمیر کر کے دریا کا رخ موڑنے کے لیے حکومت کو 2 کروڑ کا فنڈ جاری کرنے کا مراسلہ 7 جون کو بھیجا ہے، جس میں انتظامیہ نے دریا میں پانی کے بہاؤ میں اضافے اور نقصان کے خطرات سے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے۔

انتظامیہ نے لکھا کہ دریائے مستوج میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے اور جون کے مہینے کے آخر میں دریائے مستوج میں پانی کی سطح انتہائی بلند ہو سکتی ہے، انتظامیہ نے مراسلے میں گزشتہ سال کے سیلاب کا بھی حوالہ دیا، گزشتہ سال 28 اگست کو دریا میں سیلاب کی وجہ سے 100 کنال زرعی زمین دریا بُرد ہوگئی تھی اور پانی بونی روڈ تک پہنچ گیا تھا، جس سے سڑک کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوا تھا، کیوں کہ اگر روڈ کو نقصان پہنچتا تو اپر چترال کا زمینی رابطہ صوبے کے دیگر علاقوں سے کٹ جاتا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر دریا کی کٹائی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو اپر چترال کا صوبے کے دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہو جائے گا، اس لیے حکومت ریشن کے مقام پر دریا کا رخ موڑنے اور دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈ جاری کر کے اس مسئلے کو حل کرے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں