The news is by your side.

Advertisement

عارضہ قلب اور فالج میں‌ مبتلا افراد انڈا استعمال کرسکتے ہیں؟

نیویارک: دل کی صحت مند غذا میں قدرتی طور پر غذائی کولیسٹرول کم کرنا شامل ہوتا ہے اور انڈے کے استعمال سے دل کی بیماری اور فالج کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔

محققین کا کہنا ہے کہ ایک دن میں ایک انڈا شامل کرنا قلبی بیماری (سی وی ڈی) کے خطرے کو کم کردیتا ہے، خون میں بہت زیادہ کولیسٹرول، سخت ذخائر کی تشکیل ایسا عمل ہے جو دل کی زیادہ تر بیماریوں اور فالج کا باعث بنتا ہے۔

امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے سائنسی مشورے کے مطابق مجموعی طور پر دل سے صحت مند غذاؤں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے غذائی کولیسٹرول کو کم کرنے سے متعلق ریسرچ کی ہے جس میں انڈے کا استعمال فائدہ مند قرار دیا گیا ہے۔

محققین کے مطابق زیادہ تر جانوروں کی مصنوعات جیسے گوشت اور پوری چربی والے دودھ اور تیلوں میں پائی جاتی ہے، ان کی جگہ کارن، کینولا یا سویا بین تیل جیسے پولی یونٹریٹڈ چربی سے لینا چاہئے۔

ایسی خوراک جس میں چربی شامل ہو ہمارے جسم میں کم کثافت والی لیپوپروٹین کی مقدار کو بڑھا دیتی ہے۔ اگرچہ کچھ چربی قدرتی طور پر جانوروں سے حاصل کی گئی غذا کا حصہ ہوتی ہے، اس میں سے زیادہ تر مصنوعی طریقے سے بنائی جاتی ہے اور اس کی زیادہ مقدار مارجرینز (پروسسڈ فوڈ)، سنیکس (ہلکی پھلکی تیار خوراک) اور ڈیپ فرائی یا زیادہ تلے اور بیک ہوئے کھانوں میں موجود ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: سردی کے موسم میں انڈے کھانا کیوں ضروری ہیں؟

دیگر غذا کے ساتھ انڈا کھانے سے ہمارے جسم میں وٹامن کو جذب کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک تحقیق کے مطابق سلاد کے ساتھ ایک انڈے کا اضافہ جسم میں سلاد سے ملنے والی وٹامن ای کی مقدار بڑھا سکتا ہے۔

ایک انڈے کی زردی میں تقریباً 185 ملی گرام کولیسٹرول ہوتا ہے۔ امریکی حکومت کی غذائی ہدایات کے مطابق کسی بھی شخص کو ایک دن میں 300 ملی گرام سے زیادہ کولیسٹرول استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

انڈوں میں موجود کولیسٹرول صحت کے لیے زیادہ خطرناک نھیں ہے۔ پروفیسر بلیسو کے مطابق کولیسٹرول زیادہ خطرناک تب ہوتا ہے جب وہ خون کی نالیوں میں موجود آکسیجن کے ساتھ مل کر ’آکسائڈائز‘ ہو جاتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق انڈوں میں موجود کولیسٹرول کے ساتھا ایسا نھیں ہوتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں