کراچی (8 ستمبر 2026): پاک انگلینڈ آخری ٹیسٹ میچ کل سے ایجسٹن میں کھیلا جائے گا یہ گراؤنڈ پاکستان ٹیم کیلیے بدقسمت لیکن بابر اعظم کیلیے خوش بختی کی علامت ہے۔
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ کل سے برمنگھم میں ایجسٹن میں کھیلا جائے گا۔ قومی ٹیم سیریز تو ہار چکی ہے، تاہم اس کو وائٹ واش کی ہزیمت سے بچنے کے لیے اس میچ میں فتح یا ڈرا لازمی درکار ہے۔
تیسرے میچ میں غازی غوری کے ٹیسٹ ڈیبیو کرائے جانے کا امکان ہے جب کہ عمران رندھاوا کے پلیئنگ الیون میں ہونے اور صائم ایوب کی واپسی کا امکان ہے۔
تاہم ایجبسٹن گراونڈ میں پاکستان کا ریکارڈ بدترین ہے اور قومی ٹیم آج تک اس میدان میں ایک بھی ٹیسٹ میچ نہیں جیت سکی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قومی ٹیم کا موجودہ ٹیسٹ اسکواڈ کا کوئی کھلاڑی اس میدان میں ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا ہے۔
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان اس میدان میں اب تک 8 میچز کھیلے گئے ہیں۔ ان میں سے 5 میں قومی ٹیم کو شکست ہوئی ہے جب کہ تین میچز کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ 2016 میں برتری لینے کے باوجود پاکستان ٹیسٹ میچ میں بری طرح ناکام ہوا تھا۔
ان حقائق کے برعکس ایجسنٹ گراؤنڈ موجودہ قومی ٹیسٹ کپتان اور اسٹار بیٹر بابر اعظم کے لیے خوش بختی کی علامت رہا ہے اور وہ یہاں دو ون ڈے سنچریاں بھی اسکور کر چکے ہیں۔
بابر اعظم ایجسٹن گراؤنڈ میں 4 ون ڈے میچوں میں 2 سنچریوں کیساتھ 298 رنز بنائے ہیں۔
انہوں نے 2019 آئی سی سی ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف 101 ناٹ آؤٹ بطور بیٹر کھیلی تھی جب کہ اور جولائی 2021 میں میزبان انگلینڈ کے خلاف 158 رنز کی اننگ بطور کپتان کھیل چکے ہیں۔
بابر اعظم جو تین سال سے ٹیسٹ میں سنچری بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا وہ اپنی دسویں ٹیسٹ سنچری اپنے لیے مبارک گراؤنڈ میں مکمل کر پائیں گے اور کیا وہ نئی ٹیم کے ساتھ ایجسٹن ٹیسٹ جیت کر نئی تاریخ بھی رقم کر سکیں گے۔
دورہ انگلینڈ میں ڈسپلن کی خلاف ورزی، پی سی بی حرکت میں آ گیا


