The news is by your side.

Advertisement

تین دہائیوں تک جعلی پولیس افسر بننے والے کا بھیانک انجام

قاہرہ: مصر میں تین دہائیوں سے زائد عرصہ تک جعلی پولیس افسر بننے والا اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق مصر میں تین دہائیوں سے زائد عرصہ تک ایک شخص پولیس افسر بنا رہا، ملزم کی اہلیہ، بچے اور قریبی دوست بھی آخر وقت تک اس کی اصلیت سے واقف نہ ہوسکے۔

جیزہ پولیس اسٹیشن میں جعل سازی کے کیس میں قید 65 سالہ مصری حرکت قلب بند ہونے سے ہلاک ہوگیا، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی موت طبعی ہے۔

ملزم نے 32 برس قبل خود کو پولیس انسپکٹرظاہر کرنا شروع کیا اس کے بارے میں کسی کو یہ شک تک نہیں ہوا کہ اس کا تعلق پولیس سے نہیں۔

جعل ساز نے 33 برس کی عمر میں شادی کی اور جس گھر میں رشتہ بھیجا وہاں بھی خود کو پولیس افسر ہی ظاہر کیا، جعل ساز انتہائی شاطرانہ انداز میں وارداتیں کرتا رہا اس دوران اس نے لاکھوں مصری پونڈ جمع کیے، جعل سازی اور دھوکہ بازی سے بڑی دولت اکٹھی کی گھروالوں کےلیے ’جیزہ ‘ کمشنری کے انتہائی مہنگے علاقے میں عالیشان بنگلہ بھی بنایا۔

پولیس کے مطابق ملزم وقتاً فوقتاً جعلی اسناد اور ترقی کی خبروں سے اپنے گھروالوں اور دوستوں پررعب جماتا رہتا تھا۔ جعل ساز کی حقیقت سے ناآشنا اس کے اہل خانہ نے 5 برس قبل فرضی ریٹائرمنٹ کے موقع پر معروف ہال میں تقریب بھی منعقد کی جس میں بڑی تعداد میں لوگ بھی شریک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق شاطر جعل ساز کی حقیقت کے بارے میں پولیس کو ڈرامائی انداز میں معلوم ہوا جب ایک زمین کے سودے میں گرفتار شخص سے پولیس نے تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ جس زمین کا سودا کیا گیا تھا اس کی دستاویزات بھی اسی جعلی و خود ساختہ پولیس انسپکٹرنے تیار کی تھیں۔

پولیس نے برسوں تک لوگوں کو اندھیرے میں رکھنے والے جعل ساز کو گرفتار کرکے اس کی حقیقت سے لوگوں کو آگاہ کیا، ملزم کے گھر پر چھاپے کے دوران وہاں سے بڑی تعداد میں جعلی اسناد، اراضی کی جعلی دستاویزات اور یونیورسٹی کی جعلی ڈگریاں بھی برآمد ہوئیں جو وہ انتہائی مہنگے داموں لوگوں کو فروخت کیا کرتا تھا۔

ملزم دوران حراست حرکت قلب بند ہونے سے ہلاک ہوگیا، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی موت طبعی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں