مصری عدالت نے سعودی عرب کو جزیرے نہ دینے کا فیصلہ سنا دیا -
The news is by your side.

Advertisement

مصری عدالت نے سعودی عرب کو جزیرے نہ دینے کا فیصلہ سنا دیا

قاہرہ : سعودی عرب کی جانب سے مصر کے دو جزیرے اسکے حوالے کرنے کے منصوبے سے متعلق مقدمے میں مصر کی اعلیٰ عدالت نے ذیلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے دونوں جزیروں کو سعودی عرب کے حوالے نہ کرنے کا فیصلہ سنا دیا، فیصلہ سنتے ہی کمرہ عدالت تالیوں سے گوج اٹھا۔

تفصیلات کے مطابق مصر کی ایک اعلیٰ عدالت نے بحیرۂ احمر کے دو جزیروں کو سعودی عرب کے حوالے نہ کرنے کے عدالتی فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

مصر کی اعلیٰ انتظامی عدالت (ہائی ایڈمنسٹریٹو کورٹ) نے یہ فیصلہ حکومت کی اس اپیل پر سنایا ہے جس میں مصری حکومت نے استدعا کی تھی کہ ایک ذیلی عدالت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے جس میں عدالت نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ تیران اور صنافیر نامی جزیروں کو سعودی عرب کے حوالے کرنے کے منصوبے کو روک دے۔

پیر کو جب جج نے یہ فیصلہ سنایا کہ مصری حکومت یہ ثبوت فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے کہ مذکورہ دو جزیرے دراصل سعودی عرب کی ملکیت تھے، تو کمرہ عدالت تالیوں سے گونج اٹھا۔

ان جزیروں کو سعودی عرب کے حوالے کرنے کے منصوبے پر جب گذشتہ سال اپریل میں دونوں ممالک کی جانب سے دستخط کیے گئے تھے تو مصر میں اس کے خلاف احتجاج بھی ہوا تھا۔ مصری یا سعودی حکومت کی جانب سے عدالت کے اس فیصلے پر کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اس بارے میں صدر عبدالفتح السیسی کا کہنا تھا کہ یہ جزیرے ہمیشہ سے سعودی عرب کی ملکیت تھے اور سعودی عرب نے سنہ 1950 میں مصر سے درخواست کی تھی کہ ان جزیروں کی حفاظت کے لیے وہ وہاں پر اپنے فوجی تعینات کر دے۔ لیکن اس بیان کے بعد السیسی پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ملکی آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور اصل میں وہ یہ جزیرے سعودی عرب کو ’فروخت‘ کر رہے ہیں جس کے جواب میں وہ سعودی عرب سے اربوں ڈالر کی امداد لے رہے ہیں۔

ناقدین کے بقول سعودی عرب کے شاہ سلمان نے اپنے قاہرہ کے دورے کے موقع پر جس امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا وہ ان ہی جزیروں کی منتقلی کے جواب میں تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں