اتوار, مارچ 15, 2026
اشتہار

مصر میں انسانی جِلد کے عطیے پر بحث شروع ہو گئی

اشتہار

حیرت انگیز

قاہرہ (08 فروری 2026): مصر کی سینیٹ میں انسانی جِلد کے عطیے اور نیشنل ہیومن ٹشو بینک کے قیام کی تجاویز پر بحث شروع ہو گئی ہے۔

ایوانِ بالا (سینیٹ) کی رکن امیرہ صابر نے چیئرمین سینیٹ کے توسط سے وزیر صحت کو ایک تجویز پیش کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ انسانی بافتوں کے لیے ایک قومی بینک قائم اور مرنے کے بعد بافت (tissues) عطیہ کرنے کا ایک نظام فعال کیا جائے۔

مصر کی رکن پارلیمنٹ امیرہ صابر
مصر کی رکن پارلیمنٹ امیرہ صابر

اس تجویز کا مقصد انسانی بافتوں کی درآمد پر انحصار ختم کرنا ہے، جس پر فی کیس تقریباً 10 لاکھ مصری پاؤنڈز لاگت آتی ہے، اور ایک ایسا پائیدار قومی نظام لانا مقصود ہے جو ہر سال شدید جھلسنے والے سیکڑوں بچوں کی جان بچانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

رکن سینیٹ کا کہنا تھا کہ گزشتہ دسمبر میں مصر نے محفوظ شدہ انسانی جلد کی پہلی کھیپ وصول کی تھی، ’’عطیہ کردہ جلد‘‘ ایک زندگی بچانے والا طبی عمل ہے، خاص طور پر ان بچوں کے لیے جن کا جسم 40 فی صد سے زیادہ جھلس چکا ہو، مناسب جلد کی عدم دستیابی کی صورت میں ایسے بچوں میں اموات اور مستقل معذوری کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔

پاکستان میں اینٹی بایوٹکس کے غیر ضروری استعمال سے ہر سال 2 سے 3 لاکھ افراد جان گنوا بیٹھتے ہیں

اس تجویز نے عوامی حلقوں میں بحث اور اس کے طبی و قانونی اطلاق کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اہل مصر اسپتال کی سربراہ ڈاکٹر ہبہ السویدی نے ایک ٹی وی بیان میں کہا کہ جلد کا عطیہ کسی بھی دوسرے عضو کے عطیے سے مختلف نہیں ہے کیوں کہ جلد جسم کا سب سے بڑا عضو ہے۔

دوسری جانب قانونِ عامہ کے پروفیسر اور سابق رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سمیر ابو طالب نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصری قانون سازی میں انسانی اعضا کے عطیے پر کوئی پابندی نہیں ہے اور آنکھوں، جگر اور گردوں کے عطیے کا قانونی ڈھانچا پہلے سے موجود ہے۔

انھوں نے کہا جلد کا عطیہ مصر کے صحت اور قانون سازی کے نظام میں ایک جدید موضوع ہے، جس پر احتیاط کے ساتھ کام کرنے اور معاشرتی قبولیت کے لیے مذہبی اداروں سے شرعی رائے لینا ضروری ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں