The news is by your side.

Advertisement

مصر کے حکمران کا ٹی وی ڈراموں کے خلاف کریک ڈاؤن

قاہرہ: مصر پر عبدالفتح السیسی گزشتہ 5 سال سے حکمران ہیں، تاہم گزشتہ 3 سال سے مصر میں میڈیا کے لیے پابندیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور میڈیا حکومتی زنجیروں کے گرد جکڑا دکھائی دیتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2014 میں جب سیسی اقتدار میں آئے تو انہوں نے میڈیا کو تاکید کہ وہ ان کا ساتھ دیں اور کہا کہ وہ ایسے پروگرامز پیش کریں جو ہماری اقدار و اخلاقیات کی مثبت تصویر پیش کریں۔

تاہم سیسی کے میڈیا سے تعلقات اس وقت خراب ہوگئے جب سنہ 2016 میں مصر کے دو جزیرے سعودی عرب کے حوالے کرنے کے معاملے پر پورے ملک میں احتجاج شروع ہوگیا۔ مختلف اخبارات نے بھی اس کی مذمت میں لکھنا شروع کیا تو ایک دن ایک اخبار کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا اور حکومت پر تنقید کرنے والے 2 صحافیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

یہ صرف آغاز تھا جس کے بعد مصر میں بڑے پیمانے پر صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہوگیا۔

پابندیاں کس حد تک؟

مصر کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی مختلف شخصیات انٹرویوز میں کہ چکی ہیں کہ سیسی کی حکومت میں ان کے لیے پابندیاں اس سے کہیں زیادہ ہیں جتنی حسنی مبارک کے دور میں تھیں۔

اب ٹی وی کے لیے ممنوعہ موضوعات کی ایک لمبی فہرست ہے۔ حکومت کی جانب سے 2 واٹس ایپ گروپ بھی بنائے گئے ہیں جن پر ٹی وی پروگرامز کے لیے ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔

مختلف نجی کمپنیاں ٹی وی چینلز اور اخبارات کو خرید رہی ہیں اور واقفان حال کا کہنا ہے کہ یہ نجی کمپنیاں حکومتی ایما پر ایسا کر رہی ہیں-

ایک نامور مصری فلم ڈائریکٹر خالد یوسف کا، جو مصری پارلیمنٹ کے رکن بھی ہیں، کہنا ہے کہ حکومت ڈراموں کے مواد میں مداخلت کر رہی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے کچھ بظاہر نجی پروڈکشن فرمز بھی قائم کی ہیں جو مخصوص بیانیے کی ترویج کرتی ہیں۔

یوسف فی الوقت پیرس میں مقیم ہیں، ’حکومت نہیں چاہتی کہ لوگ سوچیں‘۔

کئی پروڈیوسرز کا کہنا ہے کہ حسنی مبارک کی حکومت کے آخری وقت میں انہوں نے پولیس کی زیادتیوں پر بھی ڈرامے بنائے، اب ایسا ناممکن ہے۔

سنہ 2017 میں سیسی نے میڈیا کے لیے قواعد و ضوابط کی ایک سپریم کونسل قائم کی تھی جس کا صدر بذات خود سیسی نے مقرر کیا۔ اس کونسل کی ڈرامہ کمیٹی کو ہدایت دی گئی کہ وہ مصری ٹی وی پر چلنے والے تمام ڈراموں کا جائزہ لیا کرے۔

اس کمیٹی نے خاصا فعال کردار ادا کیا۔ اس نے مختلف ڈراموں میں مختلف منفی پہلوؤں کی نشاندہی کرنا شروع کی جس میں کرداروں کی سگریٹ نوشی بھی شامل تھی۔صرف ایک ہفتے کے دوران اس کمیٹی نے مختلف ڈراموں میں اپنے قواعد و ضبواط کی 948 خلاف ورزیاں نوٹ کیں۔

پابندیوں کا یہ سلسلہ آزادانہ کام کرنے والی ویب سائٹس کے لیے بھی ہے۔ اب تک سینکڑوں نیوز اور بلاگنگ ویب سائٹس کو بند کیا جا چکا ہے جبکہ 2018 میں منظور کیے گئے ایک قانون کے تحت حکومت غلط خبریں پھیلانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کرنے اور ان کے چلانے والوں کو سزا بھی دے سکتی ہے۔

حکومت کی جانب سے بنائے گئے واٹس ایپ گروپ میں ٹی وی چینلز اور اخبارات کے لیے وقتاً فوقتاً ہدایات بھی موصول ہوتی رہتی ہیں۔

رواں برس اپریل میں ایک کینسر اسپتال کے باہر ہونے والے دھماکے میں، جس میں 20 افراد ہلاک ہوئے، ہدایات جاری کی گئیں کہ اس دھماکے کی محدود کوریج کی جائے۔ ٹی وی چینلز اور اخباروں نے حکم کی تعمیل کی۔

اسی طرح سیسی کے خلاف مظاہروں پر اکسانے والے ایک اداکار کی خبر نہ لگانے کی بھی ہدایت کی گئی، مذکورہ اداکار اس وقت اسپین میں مقیم ہے۔

ان پابندیوں کا اثر عوام پر بھی پڑا ہے، اکثر افراد کا ماننا ہے کہ حکومتی پابندیوں کے باعث معیاری ٹی وی پروگرامز میں کمی واقع ہوئی ہے جس سے ان کی تفریح کے ذرائع محدود ہوگئے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں