(30 نومبر 2025): مصر میں غزہ کی سکیورٹی سکیورٹی فورس کا حصہ بنانے اور قیام امن کیلیے سیکڑوں فلسطینی پولیس افسران کو ٹریننگ دی جا رہی ہے۔
مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے اگست میں فلسطینی وزیر اعظم محمد مصطفیٰ کے ساتھ مذاکرات کے دوران اعلان کیا تھا کہ غزہ کیلیے 5000 افسران و اہلکاروں کو تربیت دینے کا منصوبہ ہے۔
ایک فلسطینی اہلکار نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مارچ میں 500 سے زیادہ اہلکاروں کے پہلے گروپ کو قاہرہ میں تربیت دی گئی اور ستمبر سے دوبارہ دو ماہ کے کورسز شروع ہو چکے ہیں جن میں مزید سیکڑوں افراد شامل ہو رہے ہیں۔
نن کے مطابق فورس کے تمام ارکان کا تعلق غزہ پٹی سے ہوگا اور ان کی تنخواہیں فلسطینی اتھارٹی دے گی۔
ایک 26 سالہ فلسطینی پولیس اہلکار نے کہا میں اس ٹریننگ سے بہت خوش ہوں، ہم جنگ اور جارحیت کے مستقل خاتمے کے خواہاں ہیں اور اپنے ملک اور شہریوں کی خدمت کیلیے پُرجوش ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی سکیورٹی فورس آزاد ہوگی، صرف فلسطین کی وفادار ہوگی اور کسی بیرونی اتحاد یا مقاصد کے تحت نہیں چلے گی۔
ایک فلسطینی لیفٹیننٹ نے بتایا کہ ہمیں سرحدی نگرانی کیلیے جدید آلات کے ساتھ عملی ٹریننگ بہترین انداز میں ملی۔
ٹریننگ کے دوران فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کے بطور واحد جائز نمائندہ کردار کو بھی اجاگر کیا گیا اور ایک مکمل خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے خواب کی حفاظت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
فلسطینی اتھارٹی کے ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار نے تصدیق کی کہ اس کے صدر محمود عباس نے وزیرِ داخلہ زیاد حبّ الرح کو مصر کے ساتھ تربیتی معاملات پر رابطہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
گزشتہ سال کے آخر میں مصر کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران فلسطینی دھڑوں جن میں حماس اور عباس کی فتح شامل ہیں، تقریباً 10000 پولیس اہلکاروں پر مشتمل ایک فورس پر متفق ہوئے تھے۔
معاہدے کے مطابق نصف اہلکاروں کو مصر تربیت دے گا جبکہ باقی 5000 اہلکار غزہ کی موجودہ پولیس فورس سے آئیں گے جو 2007 میں حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اسی کے کنٹرول میں ہے۔


