The news is by your side.

Advertisement

فیفا ورلڈ کپ 2018: روزوں کی وجہ سے مصری کھلاڑیوں کی کارکردگی متاثر ہوئی

قاہرہ: قومی فٹ بال ایسوسی ایشن مصر کے صدر ہانی ابو ریدہ نے کہا ہے کہ مصری ٹیم کے کھلاڑیوں نے روزے رکھے جس کی وجہ سے ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق فٹ بال ایسوسی کے صدر کے کہنے کے باوجود مصری کھلاڑیوں نے روزے توڑنے سے انکار کیا اور رمضان کے پورے روزے رکھے۔

ہانی ابو ریدہ نے کہا کہ روس میں ورلڈ کپ سے قبل رمضان کے روزوں کی وجہ سے مصری ٹیم کی تیاریاں متاثر ہوئیں، فٹ بال ٹیم نے روزے رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، خیال رہے کہ روزے مصر کے پہلے میچ سے ایک دن قبل ہی ختم ہوئے تھے۔

ایسوسی ایشن کے صدر کے مطابق مصر اپنا پہلا میچ یورا گوئے کے ساتھ اس لیے ہار گیا تھا کیوں کہ ٹیم ایک دن قبل ہی تمام روزے رکھ کر فارغ ہوئی تھی، کھلاڑی روزوں کے اثرات کی زد میں تھے۔

خیال رہے کہ مصر یورا گوئے کے ساتھ اپنا پہلا میچ ہی نہیں بلکہ گروپ کے سارے میچز ہار گیا تھا، جن میں ورلڈ کپ کے میزبان ملک روس اور سعودی عرب کے ساتھ میچز بھی شامل ہیں۔

ابو ریدہ کا کہنا تھا کہ کئی عرب ملکوں کی فٹ بال ٹیموں نے اپنے کھلاڑیوں کو روزے نہیں رکھنے دیے تھے، کیوں کہ روزوں کی وجہ سے کھلاڑیوں کی کارکردگی متاثر ہونا یقینی تھا۔

فٹ بال کی تاریخ‌ کا بڑا اپ سیٹ، دفاعی چیمپین جرمنی ورلڈ کپ سے باہر


روس سے شکست کے بعد مصری ٹیم کے کوچ ہیکٹر کوپر نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، ابو ریدہ نے بتایا کہ ایسوسی ایشن کو اب نئے کوچ کی بھی تلاش ہے، ان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی کوچ ہاروی رینارڈ سے اس سلسلے میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی، خیال رہے کہ وہ مراکش ٹیم کی کوچنگ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ مصر کی ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2018 میں اپنا ایک بھی میچ نہیں جیت سکی ہے، مصری ٹیم کو لیور پول فٹ بال کلب میں کھیلنے والے اسٹار کھلاڑی محمد صلاح غالی کی بھی خدمات حاصل تھیں لیکن وہ بھی مصر کے لیے کوئی میچ نہیں جتوا سکے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں