قربانی کی اہمیت اورشرعی مسائل -
The news is by your side.

Advertisement

قربانی کی اہمیت اورشرعی مسائل

عید الاضحیٰ قربانی کے ایک ایسی عظیم واقعے کی یادگار ہے جس کی تاریخ عالم میں نظیر ملنا ہے مشکل ہے‘ جب ایک عظیم باپ ا للہ کے حکم کی تکمیل میں اپنے عظیم بیٹے کی قربانی پیش کرنے کے لیے بیت اللہ پہنچتا ہے۔

جی ہاں یہ واقعہ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور حضرت اسماعیل ذبیح اللہ سے منسوب ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو اپنے ہی ہاتھوں سے اللہ کی راہ میں ذبح کررہے ہیں۔

تین دن لگاتار ایک ہی خواب دیکھنے کے بعد حضرت ابراہیم اپنے پسر اسماعیل کو لیے اللہ کے گھر کی جانب بڑھے اور مخصوص مقام پر انہیں لٹا کر ان کے ہاتھ پیرباندھے اپنی آنکھوں میں پٹی باندھی اور ارادہ کیا کہ چھری حضرت اسماعیل کے گلے پررواں کردیں۔

post-2

ایسے میں مشیت الہیٰ جوش میں آئی اور جنت سے ایک مینڈھا چلا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ چھری مینڈھے کے حلقوم پر چل گئی‘ اسی دن سے عرب میں قربانی کی سنت ابراہیمی جاری ہوئی جسے اسلام نے بے پناہ فضیلت دی۔

قرآن نے اس واقعے کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ

اے میرے پروردگار مجھ کو نیک بیٹا عطا فرما۔ پس ہم نے ان کو ایک بردبار بیٹے کی بشارت دی۔ پھر جب وہ (اسمٰعیل) ان کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچے فرمایا اے میرے بیٹے، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تم کو ذبح کر رہا ہوں پس تم بھی غور کرلو کہ تمہارا کیا خیال ہے (اسمٰعیل نے بلا تردد) عرض کیا اے اباجان (پھردیر کیا ہے) جو کچھ آپ کو حکم ہوا کر ڈالئے (جہاں تک میرا تعلق ہے) آپ ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ پھر جب دونوں نے (اللہ کا) حکم مان لیا اور (ابراہیم نے) ان کو ماتھے کے بل لٹایا۔ اور ہم نے ان کو ندا دی کہ اے ابراہیم (کیا خوب) تم نے اپنا خواب سچا کر دکھایا۔ ہم نیکو کاروں کو یوں ہی بدلہ دیتے ہیں۔ (بے شک باپ کا بیٹے کے ذبح کے لئے تیار ہوجانا) یہ ایک بڑی صریح آزمائش تھی (حضرت ابراہیم اس آزمائش میں پورا اترے) اور ہم نے ایک عظیم قربانی کو ان کا فدیہ (بنا) دیا۔

(الصفت، 37 : 100 – 107)

رب کریم نے اس سنت ابراہیمی کو ہمیشہ کے لئے باقی رکھا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا ’’اور ہر امت کے لئے ہم نے مقرر فرمائی ایک قربانی تاکہ وہ ذکر کریں اﷲ تعالیٰ کے اسم پاک) ان بے زبان جانوروں پر ذبح کرتے وقت جو اﷲ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائے ہیں۔

post-3

پھر ہر دور میں قربانی کا یہ سلسلہ چلتا رہا حتی کہ زمانہ جاہلیت میں بھی قربانی کا رواج رہا۔ مگر ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ جانور ذبح کرنے کے بعد خون کعبہ معظمہ کی دیواروں سے لگا دیتے اور گوشت بتوں کے سامنے اکھٹا کردیتے تھے۔ بعد ازاں جب حضور نبی رحمت خاتم المرسلینﷺ کا تاج سجائے مبعوث ہوئے تو خالق کائنات نے قربانی کاحکم باقی رکھتے ہوئے فرمایا۔

فصل لربک وانہر

پس آپ نماز پڑھا کریں اور اپنے رب کے لئے قربانی دیں ۔

اور ساتھ ہی زمانہ جاہلیت کی اس ناپسندیدہ رسم کو جڑ سے اکھیڑنے کیلئے ارشاد فرمایا۔

لن ینال اﷲ لمومھا ولا دماء ماولکن ینالہ التقویٰ منکم

سورہ حج ۳۷

نہیں پہنچتا اﷲ تعالیٰ کو ان کے گوشت اور نہ ان کے خون البتہ پہنچتا ہے اس کے حضور تک تقویٰ تمہاری طرف سے۔

یعنی رب کریم کو ان جانوروں کے گوشت اور خون کی قطعا ضرورت نہیں۔ وہ تو صرف یہ دیکھتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کس قدر خوف الٰہی اور تقویٰ موجود ہے۔ اطاعت و فرمانبرداری کے کتنے جذبات موجزن ہیں۔

آقا دوجہاںﷺ اپنی حیات طیبہ میں مسلسل قربانی کرتے رہے اور صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کو بھی اس کی عظمت و اہمیت سے آگاہ فرمایا۔ لہذا اب آپﷺ کی امت کے لئے قربانی دینا سنت ابراہیمی بھی ہے اور سنت مصطفیٰﷺ بھی۔

قربانی کی تعریف

کتب فقہ میں قربانی کے لئے لفظ اضحیہ استعمال ہوا ہے۔ اس کی وضاحت کچھ اس طرح ہے۔ لغت میں اضحیہ ہہر اس جانور کا نام ہے جسے قربانی کے دن ذبح کیا جاتا ہے۔ اس کی جمع اضاحی ہے۔ اصطلاح شرع میں اضحیہ سے مراد مخصوص وقت میں جانور کو ذبح کرنا ہے۔

قربانی کی اہمیت

قربانی کی اہمیت محتاج بیان نہیں۔ لیکن اپنے محبوب آقاﷺ کا ارشاد ملاحظہ فرمایئے۔

حضرت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں۔ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی کے دن آدمی کا کوئی عمل اﷲ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں۔ بے شک قیامت کے دن وہ جانور اپنے سینگوں بالوں اور کھروں کے ساتھ حاضر ہوگا۔ خون زمین پر گرنے سے قبل وہ رب کریم کی بارگاہ میں مقام قبول پر پہنچ جاتا ہے۔ پس تم خوش دلی کے ساتھ عمل کرو ۔

مسائل قربانی

اگر آدمی کے پاس نصاب موجود ہو‘ مگر اس کے ذمہ لوگوں کا اتنا قرض واجب الادا ہو کہ ادا کرنے سے نصاب باقی نہ رہے‘ یا اس کے پاس نصاب کا کچھ حصہ موجود ہو اور باقی لوگوں کو بطور قرض دے رکھا ہو لیکن قربانی کے ایام گزرنے تک وہ واپس نہ ملے تو ہر دو صورت میں قربانی واجب نہ ہوگی۔

اگر آدمی پہلے صاحب نصاب ہو مگر قربانی کا دن آنے تک وہ باقی نہ رہا بلکہ اس کا سامان چوری ہونے یا جل جانے یا کسی اور وجہ سے نقصان ہونے کے سبب نصاب سے کم ہوگیا تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔

صاحب نصاب نے قربانی کا جانور خرید رکھا تھا مگر قربانی کا دن آنے سے پہلے وہ گم ہوگیا اور ساتھ ہی وہ شخص نصاب کا مالک بھی نہ رہا تو اس پر نیا جانور خرید کر قربانی دینا لازم نہیں۔ بلکہ اگر وہ جانور مل بھی جائے مگر اس کے باوجود وہ صاحب نصاب باقی نہ رہے تو اس پر یہ قربانی واجب نہیں

post-4

قربانی کے وقت میں قربانی کرنا ہی لازم ہے۔ لہذا کسی نے قربانی کی جگہ زندہ جانور یا اس کی قیمت صدقہ کردی تو یہ جائز نہیں۔ واجب ذمہ سے ساقط نہیں ہوگا۔ اس لئے قربانی کے دنوں میں جانور ذبح کرنے سے ہی واجب الادا ہوگا۔

وہ مقامات جہاں عید کی نماز ادا کی جاتی ہے‘ چاہے وہ شہر ہو یا دیہات‘ ان میں عید کی نماز ادا ہونے کے بعد ہی قربانی ہوسکتی ہے۔ عید کی نماز سے پہلے قربانی کرنا جائز نہیں۔ اور جہاں عید کی نماز نہیں ہوتی‘ وہاں طلوع آفتاب کے بعد قربانی کرنا درست نہیں۔

اگر کسی نے عید کی نماز کے بعد مگر خطبہ سے پہلے قربانی کی تو اس صورت میں قربانی ہوجائے گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔

قربانی کا جانور کیسا ہونا چاہئے

بنیادی طور پر جن جانوروں کی قربانی دی جاسکتی ہے وہ تین ہیں۔ اونٹ‘ گائے اور بکری۔ پھر بھیڑ بکری کے ضمن میں اور بھینس گائے کے ضمن میں داخل ہے۔ اس لئے کہ یہ ایک دوسرے کے ہم جنس ہیں۔

عمر کے اعتبار سے اونٹ کی عمر پانچ سال یا زیادہ گائے کی عمر دو سال یا اس سے زیادہ اور بکری کی عمر ایک سال سے یا اس سے زائد ہونا ضروری ہے۔ اگر ان جانوروں کی عمر اس سے کم ہوگی تو قربانی جائز نہیں ہوگی۔ البتہ ایسا دنبہ جس کی عمر ایک سال سے کم ہو مگر چھ ماہ یا اس سے زائد ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔بشرطیکہ وہ اتنا موٹا ہو کہ دور سے ایک سال کا دکھائی دے۔

post-7

مذکورہ جانوروں میں بکری‘ بھیڑ اور دنبہ صرف ایک آدمی بطور قربانی دے سکتا ہے۔ جبکہ گائے‘ بیل‘ بھینس اور اونٹ کی قربانی میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں۔ شرکت کی صورت (اجتماعی قربانی) میں یہ لازم ہے کہ جانور کا گوشت وزن کے ساتھ سات حصوں میں برابر برابر تقسیم کیا جائے۔ اندازے سے گوشت کی تقسیم جائز نہیں اور یہ تصور بھی درست نہیں کہ کمی بیشی ایک دوسرے کو معاف کردیا جائے (ہمیشہ تول کر ہی گوشت آپس میں تقسیم کیا جائے) کیونکہ یہ شریعت کا حق ہے۔ لہذا اسے معاف کرنے کا اختیار شرکاء کو حاصل نہیں ۔

حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار قسم کے جانوروں کی قربانی جائز نہیں۔

 مستحب یہ ہے کہ قربانی کا جانور مکمل طور پر عیب سے پاک اور خالی ہو۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو معمولی عیب کے ہوتے ہوئے قربانی درست ہوگی اور اگر عیب کی مقدار زیادہ ہو تو پھر قربانی جائز نہیں ہوگی مثلا چاہئے کہ قربانی کے جانور کے تمام اعضاء سلامت ہوں۔ آنکھ‘ کان‘ سینگ‘ ناک‘ دانت اور دم وغیرہ۔ اگر یہ تمام اعضاء اپنی جگہ پر درست ہوں تو جانور مکمل ہے اور اس کی قربانی عند الشرع صحیح ہوگی۔ اور اگر اعضاء میں سے کسی میں کوئی نقص ہو تو وہ عیب ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کتنے عیب کے ہوتے ہوئے قربانی درست ہوگی۔ تو اگر جانور کی آنکھ میں بھینگا پن موجود ہو تو اس کی قربانی جائز ہے اور اگر جانور کی ایک آنکھ ضائع ہوچکی ہو یا بالکل اندھا اور نابینا ہو تو پھر اس کی قربانی جائز نہیں۔

post-1

 اگر جانور کے دونوں کان یا ایک کان پیدائشی طورپر نہیں تو اس کی قربانی جائز نہیں اور اگرکان موجود ہوں مگر نسبتا چھوٹے ہوں قربانی جائز ہے۔ اسی طرح اگر جانور کی دم یا لاٹ ابتداء موجود ہی نہ ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں اور اگر موجود ہو مگر نسبتا مقدار میں کم ہو تو جائز ہے۔ اور اگر کسی جانور کے کان‘ دم اور لاٹ کٹے ہوئے ہوں تو اگر ان کی تہائی یا اس سے کم مقدار کٹی ہوئی ہے تو ان کی قربانی درست ہے اور اگر تہائی سے زیادہ مقدارمیں کٹی ہوئی ہو تو پھر قربانی جائز نہیں۔

اگر جانور ایسا ہو جس کے سینگ پیدائشی طورپر نہ ہوں‘ یا سینگ تو ہوں مگر اوپر سے ان کا غلاف ٹوٹ جائے تو ایسے جانور کی قربانی جائز ہے اور اگر سینگ اندر سے ہڈی کے جوڑ تک ٹوٹ جائے تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ۔

 اگر جانور کی ناک کٹی ہوئی ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں۔

 اگر جانور میں لنگڑا پن ہو اور اس قدر ہو کہ وہ اپنا پائوں زمین پر نہ رکھ سکے اور پائوں سے چل کر قربان گاہ تک نہ جاسکے تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں۔

post-5

اسی طرح اگر کسی جانور کے دانت ٹوٹ جائیں یا نکل جائیں‘ اگر اتنے دانت باقی ہوں جن سے وہ آسانی سے چارہ کھا سکتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے اور اتنی مقدار میں دانت باقی نہ ہوں تو پھر قربانی جائز نہیں۔

اگر جانور خارش زدہ ہو‘ مگر خارش کے اثرات صرف جلد تک محدود ہوں اور وہ جانور اچھا موٹا تازہ ہو تو اس کی قربانی جائز ہے اور اگر اس کے اثرات گوشت تک پہنچ جائیں اور جانور اتنا کمزور ہوجائے کہ اس کی ہڈیوں میں مغز باقی نہ رہے تو پھر قربانی جائز نہیں ۔

post-6

 اگر جانور خصی ہو یا اس سے دودھ نہ اترتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے بشرطیکہ اس کے دودھ کے تھن سلامت ہوں۔ یا پھر گائے‘ بھینس کا ایک تھن خشک ہو اور تین سلامت ہوں تو اس صورت میں قربانی جائز ہے اور اگر بکری کا ایک تھن‘ اور گائے بھینس کے دو دو تھن خشک ہوجائیں تو پھر ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ۔

 اگر جانور کو ذبح کرنے کے وقت اچھلنے کودنے کے سبب کوئی عیب لاحق ہوگیا۔ تو یہ عیب اس کے لئے مضر نہیں۔ اس کی قربانی صحیح ہوگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں