The news is by your side.

Advertisement

شامی جنگ سے متاثرہ 8 سالہ باہمت بچی

حلب: شام جنگ کے دوران جہاں انتہائی سنگین جانی و مالی نقصانات کا دیکھنے میں آئے وہی یہ خون ریزی کچھ ایسے نقوش چھوڑ گئی جو زندہ رہنے والوں کے ساتھ آخری سانس تک موجود رہیں گے، جنگ سے متاثر ہونے والی 8 سالہ شامی بچی وفا کی ویڈیو انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی طاقتوں کو جنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔

شام میں عسکریت پسندوں اور عالمی و مقامی فوج کے درمیان جاری جھڑپوں میں سب سے زیادہ نقصان عوام کا ہوا، جس کے باعث بچ جانے والے کروڑوں لوگ زندگی  تلاش میں اپنا علاقہ چھوڑ کر پناہ گزین کیمپوں میں جاکر بسنے پر مجبور ہوئے۔

شامی پناہ گزین کیمپوں میں اس وقت ایک اندازے کے مطابق 1 کروڑ سے زائد مہاجرین اپنی زندگی گزار رہے ہیں، ان مہاجرین میں شام کے شہر حلب سے تعلق رکھنے والے 8 سالہ بچی وفا بھی ہے۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے اسکرول نیچے کریں

پناہ گزینوں کے امور کی بین الاقوامی تنظیم کی جانب سے ویڈیو کے مطابق وفا حلب سے فرار ہونے کے پناہ گزین کیمپ میں اپنے خاندان کے ہمراہ زندگی بسر کررہی ہے، خون ریز جنگ نے معصوم بچی کو نہ چھوڑا اس نہ مٹنے والے نقوش چھوڑ گئی۔ دو فریقین کی جنگ نے وفا کی امیدوں اور تصورات کو جلا کر راکھ کیا مگر ننھی بچی نے بھی زندگی سے لڑنے کی ٹھان لی اور نئے عزم کے ساتھ زندگی کا سفر شروع کردیا۔

ویڈیو میں وفا نے بتایا کہ ’’اُس کے گھر پر میزائل فائر کیا گیا جس کی وجہ سے گھر میں رکھا گیس سلینڈر میں دھماکا ہوا اور آگ لگ گئی، آگ کی شدت نے پورے گھر کو لپٹے میں لیا‘‘۔

آنکھوں میں نئی امیدوں کا خواب لیے وفا کا کہنا ہے کہ ’’چہرے پر جنگ کے داغ لگ جانے کے باوجود میں نے زندگی سے ہار نہیں مانی بلکہ اس نشانی کو ختم کرنے کے لیے اپنی تعلیم پر توجہ دی تاکہ میں لوگوں کے لیے مثال بن سکوں اور مایوس لوگوں میں جینے کی امید پیدا کروں‘‘۔

وفا کے مطابق وہ روزانہ اسکول جاتی ہے اور وہاں اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسکول میں ہونے والی تمام سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے تاہم کبھی کبھی ماضی کے نقوش اُس کی آنکھیں نم کردیتا ہے‘‘۔ متاثرہ بچی کا کہنا ہے کہ ’’جنگ نے میری زندگی پر کوئی اثرات نہیں چھوڑے میں آج بھی خوبصورت لڑکی ہوں اور اپنی زندگی کو تعلیم سے آراستہ کرنا چاہتی ہوں‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں